رب کو پکارا کہ مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے،تو ہم نے ان کی دعاء سن لی ،اور جو تکلیف انہیں تھی اسے دور کردیا،اور انہیں اہل و عیال عطا فرمائے،بلکہ ان کے ساتھ ویسے ہی اور اپنی رحمت خاص سے ،تاکہ عبادت کرنے والوں کو نصیحت ہو۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَذَا النُّوْنِ إِذْ ذَّھَبَ مُغَاْضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْہِ فَنَاْدَی فِي الظُّلُمَاْتِ أَنْ لَّاْ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَاْنَکَ إِنِّيْ کُنْتُ مِنَ الظَّاْلِمِیْنَ،فَاسْتَجَبْنَاْ لَہُ وَنَجَّیْنَاْہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذَلِکَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِیْنَ } [1]
اور مچھلی والے (یونس علیہ السلام) کو یاد کرو،جب وہ غصہ سے نکل گئے اور سوچا کہ ہم انہیں پکڑ نہ سکیں گے،بالآخر وہ اندھیروں کے اندر سے