ویوم الوشاح من تعاجیب ربنا ألا إنہ من بلدۃ الکفر أنجاني
ترجمہ:اور کمر بند کا دن ہمارے رب کے عجائب میں سے ہے،سنو!اسی نے مجھے کفرستان سے نجات دلائی ہے۔
عائشہ فرماتی ہیں کہ: میں نے اس لونڈی سے کہا: تیراکیا معاملہ ہے کہ جب بھی تو میرے پاس آکر بیٹھتی ہے یہ شعر ضرور پڑھتی ہے؟ فرماتی ہیں کہ اس پر اس لونڈی نے مجھے یہ ساری کہانی کہہ سنائی ۔ [1]
یہ اس کے اسلام لانے کا سبب تھا،چنانچہ بسا اوقات بعض ضرر رساں چیزیں بھی مفید ہوتی ہیں ۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
''ما من مسلم یبیت علی ذکر اللّٰہ طاھرًا فیتعار من اللیل فیسأل اللّٰہ خیرًا من الدنیا والآخرۃ إلا أعطاہ اللّٰہ إیاہ'' [2]
[2] ابو داؤد ،حدیث نمبر: (۵۰۴۲) ،واحمد ۴/۱۱۴،اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح ابوداؤد (۳/۹۵۱) اور صحیح الترغیب والترھیب (۱/۲۴۵) میں صحیح قرار دیا ہے۔