میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے والد کے منہ پر ڈال دوکہ وہ دیکھنے لگیں ،اور تم اپنے خاندان کو میرے پاس لے آؤ،اور جب قافلہ جدا ہوا تو ان کے والد نے کہا کہ مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے،اگر تم مجھے سٹھیایا ہو انہ قرار دو،وہ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم!آپ اپنے اسی پرانے خبط اور وارفتگی میں مبتلا ہیں ،جب خوش خبری دینے والے نے پہنچ کر وہ قمیص ان کے منہ پر ڈالا تو وہ اسی وقت بینا ہو گئے،فرمایا: کیا میں تم سے یہ نہ کہتا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ،انھوں نے کہا: ابا جان!آپ ہمارے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے،یقینا ہم قصور وار ہیں ،فرمایا: اچھا میں جلد ہی تمہارے لئے اپنے رب سے بخشش مانگوں گا ،وہ بہت بڑا بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام اور عورتوں کے سلسلہ میں اللہ عز وجل کا ارشاد ہے: