پکار اٹھے کہ ''الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں ،تو پاک ہے ،بے شک میں ظالموں میں سے ہوگیا''،تو ہم نے ان کی پکار سن لی،اور انہیں غم سے نجات دے دی،اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں ۔
ارشاد باری ہے:
{ ھُنَاْلِکَ دَعَاْ زَکَرِیَّاْ رَبَّہُ قَاْلَ رَبِّ ھَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً إِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَاْئِ،فَنَاْدَتْہُ الْمَلَاْئِکَۃُ وَھُوَ قَاْئِمٌ یُّصِلِّيْ فِي الْمِحْرَاْبِ أَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحْیَی مُصِدِّقًا بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَسَیِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِیًا مِّنَ الصَّاْلِحِیْنَ} [1]
اس جگہ زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے دعاء کی کہ اے میرے رب!مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما،بے شک تو دعاء کا سننے والا ہے،پس فرشتوں نے انہیں آواز دی،جب کہ وہ محراب میں