چنانچہ اگر وہ (یونس علیہ السلام) تسبیح خوانوں میں سے نہ ہوتے تو لوگوں کے مرنے کے بعد اٹھائے جانے کے دن تک اسی (مچھلی) کے پیٹ میں باقی رہتے۔
(۳) -اپنے اہل و عیال'یا مال' یا اولاد' یا اپنے آپ پر بد دعاء نہ کرے:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے جس نے اپنے اونٹ پر لعنت کی تھی،تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''من ھذا اللاعن بعیرہ؟'' ،یہ اپنے اونٹ پر لعنت کرنے والا کون ہے؟ اس شخص نے کہا: میں ہوں ،اے اللہ کے رسول !تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
'' انزل عنہ فلا تصحبنا بملعونٍ،لاتدعوا علی أنفسکم،ولا تدعوا علی أولادکم،ولا تدعوا علی أموالکم،ولا توافقوا من اللّٰہ ساعۃً یسأل فیھا عطاء فیستجیب لکم'' [1]
اس سے اتر جاؤ،ایک ملعون کے ساتھ ہماری صحبت میں نہ رہو،اپنے آپ پر بد دعاء نہ کرو،اور نہ اپنی اولاد پر بد دعاء کرو،اور نہ ہی اپنے