یعقوب علیہ السلام نے فرمایاکہ مجھے تو اس کے سلسلہ میں تمہارا بس ویسا ہی اعتبار ہے جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تھا،بس اللہ ہی بہتر نگہبان ہے اور وہ سب سے بڑا مہربان ہے۔
اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا:
{قَاْلَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ أَنْفُسُکُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ عَسَی اللّٰہُ أَنْ یَأْتِیَنِيْ بِھِمْ جَمِیْعًا إِنَّہُ ھُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ،وَتَوَلَّیٰ عَنْھُمْ وَقَاْلَ یَاْ أَسَفیٰ عَلَیٰ یُوْسُفَ وَابْیَضَّتْ عَیْنَاْہُ مِنَ الْحُزْنِ فَھُوَ کَظِیْمٌ،قَاْلُوْا تَاللّٰہِ تَفْتَؤُ تَذْکُرُ یُوْسُفَ حَتَّی تَکُوْنَ حَرَضًا أَوْ تَکُوْنَ مِنَ الْھَاْلِکِیْنَ،قَاْلَ إِنَّمَاْ أَشْکُوْ بَثِّيْ وَحُزْنِيْ إِلیَ اللّٰہِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَاْ لَاْ تَعْلَمُوْنَ،یَاْ بَنِيَّ اذْھَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُوْسُفَ وَأَخِیْہِ وَلَاْ تَیْأَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ إِنَّہُ لَاْ یَیْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ إِلَّاْ الْقَوْمُ الْکَاْفِرُوْنَ} [1]
یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: یہ تو نہیں بلکہ تم نے اپنی طرف سے بات بنالی ہے،پس اب صبر ہی بہتر ہے ،ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو