محمد'' [1]
ہر دعاء رکی رہتی ہے جب تک کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اورآپ کے آل پر درود نہ بھیجا جائے۔
(ب) حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ بیان کرتے
''إن الدعاء موقوف بین السماء والأرض لا یصعد منہ شيء حتی تصلي علی نبیک صلی اللّٰہ علیہ وسلم ''
بے شک دعاء زمین و آسمان کے درمیان موقوف ہوتی ہے ،اس میں سے کچھ بھی اوپر نہیں چڑھتا یہاں تک کہ آپ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں ۔
ترمذی،حدیث نمبر: (۴۹۰) ،علامہ البانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: ''خلاصۂ کلام یہ ہے کہ یہ حدیث ان تمام طرق اور شواہد کی روشنی میں کم سے کم حالت میں حسن کے درجہ سے نیچے نہیں اترتی ان شاء اللہ تعالیٰ ''۔دیکھئے: الأحادیث الصحیحۃ،۵/۵۷،حدیث نمبر: (۲۰۳۵) ،و صحیح الجامع،۴/۷۳،و صحیح الترمذی،۱/۱۵۰۔