رزق عطا فرمائیں گے ،جہاں اس کا وہم و گمان بھی نہ ہو گا۔'' [1]
۱۶: حصولِ کامیابی:
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
{وَتُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا أَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ} [2]
[اے مومنو! تم سب مل کر اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو ،تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔]
۱۷: زیادہ استغفار کے سبب نامۂ اعمال کا خوش کرنا:
امام طبرانی نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، کہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''جو شخص یہ پسند کرے، کہ اس کا نامۂ اعمال اسے خوش کرے، تو وہ اس میں زیادہ استغفار (درج) کروائے۔'' [3]
[2] سورۃ النور؍ جزء من الآیۃ ۳۱۔
[3] منقول از: مجمع الزوائد، کتاب التوبۃ، باب الإکثار من الاستغفار، ۱۰/۲۰۸۔ حافظ ہیثمی لکھتے ہیں: ''اسے طبرانی نے (المعجم) الأوسط میں روایت کیا ہے اور اس کے راویان ثقہ ہیں۔'' (المرجع السابق۱۰/۲۰۸) ؛ نیز ملاحظہ ہو: سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، رقم الحدیث ۲۲۶۹، ۵/۳۷۷۔۳۷۸۔