فهرس الكتاب

الصفحة 151 من 188

ہوتا، جب کہ وہ ان دونوں [کے چھن جانے] پر میری حمد کرے۔'' [1]

۱۴:قرض کی ادائیگی کروانے والی تین دعائیں:

ا:امام ترمذی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ ایک مکاتب [2] ان کے پاس آیا اور عرض کیا:''میں حصولِ آزادی کے لیے طے شدہ رقم ادا کرنے سے عاجز آگیا ہوں ،اس لیے آپ میرے ساتھ تعاون کیجیے۔''

انہوں نے فرمایا: ''کیا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھا دوں ،جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھلائے تھے؟ اگر تمہارے ذمہ جبل صیر [3] کے برابر بھی قرض ہو ، تو اللہ تعالیٰ [ان کلمات کی وجہ سے] تمہاری طرف سے اد اکر دے گا۔''

(پھر) فرمایا:''تم کہو:

[اَللّٰھُمَّ اکْفِنِيْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ، وَأَغْنِنِيْ بِفَضْلِکَ عَنْ سِوَاکَ۔[4] ] [5]

[2] (مکاتب) : کچھ مال یا خدمت کے بدلے میں اپنے مالک سے آزادی حاصل کرنے کا معاہدہ کرنے والا غلام۔

[3] (جبل صیر) : ایک پہاڑ کا نام۔ (ملاحظہ ہو: النہایۃ في غریب الحدیث والأثر،مادۃ ''صیر''، ۳؍۶۶) ۔

[4] [ترجمہ: ''اے اللہ! اپنے حلال کے ساتھ اپنی حرام کردہ چیزوں سے میری کفایت فرما دیجئے اور اپنے سوا مجھے ہر شخص سے بے نیاز فرما دیجیے۔'']

[5] جامع الترمذي ، أحادیث شتی من أبواب الدعوات، باب ، رقم الحدیث ۳۷۹۸، ۱۰؍۶۔۷۔ شیخ البانی نے اسے [حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن الترمذي ۳؍۱۸۰) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت