فهرس الكتاب

الصفحة 28 من 188

انہوں [یعنی حضراتِ صحابہ] نے عرض کیا: ''جنت کے باغیچے کیا ہیں؟''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' ذکر کے حلقات۔'' [1]

۱۱۔ذکرِ الٰہی سے دلوں کا اطمینان:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{أَ لَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْب} [2]

''آگاہ رہیے، کہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے ہی دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔''

۱۲۔ فرشتوں کا ذکر کرنے والوں کے گرد گھیرا ڈالنا:

۱۳۔ رحمت ِالٰہیہ کا انہیں ڈھانپنا:

امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے ،کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''لَا یَقْعُدُ قَوْمٌ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ إِلاَّ حَفَّتْھُمُ الْمَلَائِکَۃُ وَغَشِیَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ، وَنَزَلَتْ عَلَیْھِمُ السَّکِیْنَۃُ، وَذَکَرَھُمُ اللّٰہُ فِیْمَنْ عِنْدَہ'' [3]

''کوئی قوم ذکرِ الٰہی کے لیے نہیں بیٹھتی ،مگر فرشتے ان کے گرد گھیرا ڈال دیتے ہیں ، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے ، اطمینان کا ان پر نزول ہوتا ہے اور اللہ

[2] سورۃ الرعد؍جزء من الآیۃ ۲۸۔

[3] صحیح مسلم،کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار،باب فضل الاجتماع علٰی تلاوۃ القرآن والذکر ، رقم الحدیث ۳۹۔ (۲۷۰۰) ، ۴؍۲۰۷۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت