امام ابوداؤد نے حضرت عبداللہ کی بیوی زینب کے حوالے سے عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے ،کہ انہوں نے بیان فرمایا:''میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
''جھاڑ پھونک ، تعویذات اور جادو شرک ہیں۔''
انہوں [زینب رضی اللہ عنہما ] نے بیان کیا:''میں نے کہا:'' آپ ایسے کیوں کہہ رہے ہیں؟ واللہ! شدتِ درد سے میری آنکھ سے پانی بہا کرتا تھا اور میں ایک یہودی کے پاس جایا کرتی تھی۔ وہ جھاڑ پھونک کرتا ، تو مجھے سکون ہو جاتا۔''
عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:''بلاشبہ یہ تو شیطانی عمل ہے۔ وہ اپنے ہاتھ سے مارتا اور جب وہ جھاڑ پھونک کرتا ، تو وہ [درد] رُک جاتا۔ بلاشبہ تیرے لیے وہ کہنا کافی ہے ،جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:
[أَذْھِبِ الْبَأسَ رَبَّ النَّاسِ! اِشْفِ أَنْتَ الشَّافِيْ، لَا شِفَائَ إِلاَّ شِفَاؤُکَ شِفَائً لاَّ یُغَادِرُ سَقَمًا۔[1] ] [2]
[2] سنن أبي داود ، کتاب الطب ، باب فی تعلیق التمائم ، رقم الحدیث ۳۸۷۷، ۱۰؍ ۲۶۲۔ ۲۶۳۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود ۲؍۷۳۶) ۔
سنن ابن ماجہ میں ہے: ''حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:''اگر تم وہ کرو ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ، تو وہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ، اورتمہارے شفا یاب ہونے کے زیادہ لائق ہو گا۔ اپنی دونوں آنکھوں میں پانی کے چھینٹے مارو اور کہو: [أَذْھِبِ الْبَأْسَ……الحدیث] ۔ (ملاحظہ ہو: سنن ابن ماجہ ، أبواب الطب، باب تعلیق التمائم ، جزء من رقم الحدیث ۳۵۷۶،۲؍۲۸۵) ۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن ابن ماجہ ۲؍۲۶۹) ۔