[رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا ، وَ بِالْإِسْلاَمِ دِیْنًا ، وَبِمُحَمَّدٍ صلي اللّٰہ عليه وسلم نَبِیًا] [1]
مگر قیامت کے دن اسے خوش کرنا اللہ تعالیٰ پر لازم ہو جاتا ہے۔ [2]
ب:امام ابوداؤد نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''جس شخص نے کہا:
[رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا ، وَ بِالْإِسْلاَمِ دِیْنًا ، وَبِمُحَمَّدٍ صلي اللّٰہ عليه وسلم نَبِیًا]
تو جنت اس کے لیے واجب ہو گئی۔''] [3]
ا: امام احمد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ انہوں نے بیان فرمایا ،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
''جس نے تین دفعہ شام کے وقت کہا:
[أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ] [4]
[2] ملاحظہ فرمائیے: المسند ،رقم الحدیث ۱۸۹۶۷،۳۱؍۳۰۲۔ اس حدیث کے بارے میں حافظ ہیثمی نے تحریر کیا ہے:''قریب قریب ایسے ہی طبرانی نے اسے روایت کیا ہے اور احمد اور طبرانی کے روایت کرنے والے ثقہ ہیں۔'' (مجمع الزوائد ۱۰؍۱۱۶) ۔ اسی مفہوم کی حدیث امام ابوداؤد نے بھی روایت کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: سنن أبي داود، کتاب الأدب،باب ما یقول إذا أصبح ، رقم الحدیث ۵۰۶۲،۹؍۲۸۰) ؛ اور حافظ ابن حجر نے اس کی [سند کو قوی] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباري ۱۱؍۱۳۰) ۔
[3] سنن أبی داود،تفریع أبواب الوتر، باب فی الاستغفار،رقم الحدیث ۱۵۲۶،۴؍۲۷۲۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود ۱؍۲۸۵) ۔
[4] [ترجمہ:''میں تمام مخلوق کے شر سے اللہ تعالیٰ کے کامل [تاثیر والے] کلمات کی پناہ لیتا ہوں۔'']