امام احمد کی روایت میں ہے:''اس کے لیے جنت میں گھر بنایا گیا۔'' [1]
فطرت پر فوت ہونے سے مراد یہ ہے ،کہ وہ دینِ حق ملتِ ابراہیم علیہ السلام پر فوت ہوا، یا اس سے مراد یہ ہے ،کہ وہ دینِ اسلام پر فوت ہوا۔ [2]
اور صبح خیر پانے سے مراد مال میں خیر اور نیک اعمال میں اضافہ ہے۔ [3]
امام ابن حبان اور امام ابن السني نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے ،کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
''جو شخص بستر پر آنے کے وقت کہے:
[لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ ، لَا شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ، وَلَہُ الْحَمْدُ ، وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَيْئٍ قَدِیْرٌ۔لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ] [4]
''اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو یا خطاؤں [مسعر[5] کو شک ہوا، کہ دونوں میں سے کون سا لفظ تھا] کو معاف فرما دیتے ہیں ،اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ
[2] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۱۱؍۱۱۲۔
[3] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۱۱؍۱۱۲۔
[4] [ترجمہ: ''اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہیں، ان کا کوئی شریک نہیں، ان ہی کے لیے بادشاہت ہے اور ان ہی کے لیے تمام تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کمال قدرت رکھنے والے ہیں۔ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی استطاعت ،مگر اللہ تعالیٰ[کی توفیق] کے ساتھ۔ [ہر عیب سے ] پاک ہیں اللہ تعالیٰ، تمام تعریف ان کے لیے ہے ، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں'']
[5] حدیث شریف کا ایک راوی۔