امام احمد نے حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا:'' یقینا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ''یقینااللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
'' بلاشبہ جب میں اپنے بندوں میں سے کسی مومن بندے کو ابتلا میں ڈالتا ہوں اور وہ اس ابتلا پر میری حمد کرتا ہے ، تو وہ [اپنی بیماری کے] اس بستر سے گناہوں سے اس طرح [پاک ہو کر] اُٹھتا ہے ،جس طرح کہ وہ اپنی ماں کے ہاں پیدا ہونے کے دن تھا۔''
اور رب عزوجل فرماتے ہیں:''میں نے اپنے بندے کو جکڑ رکھا ہے اور میں نے
اسے ابتلا [1] میں ڈالا ہے، تم اس کے لیے اسی طرح [نیکیوں کا تحریر کرنا] جاری رکھو ، جیسا کہ اس کی تندرستی کے زمانے میں تھا [2] ۔'' [3]
۱۳:بینائی کی محرومی پر حمد کا ثواب:
امام ابن حبان نے حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے ، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب تعالیٰ سے نقل فرمایا ،کہ انہوں نے ارشاد فرمایا:
''جب میں اپنے بندے کی دونوں آنکھیں چھین لوں اور وہ شدت سے ان کو چاہنے والا ہو، تو میں اس کے لیے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں
[2] یہاں نیکیاں تحریر کرنے والے فرشتوں سے خطاب ہے۔ واللّٰہ تعالیٰ أعلم۔
[3] انظر: المسند، رقم الحدیث ۱۷۱۱۸،۲۸؍۳۴۴۔ شیخ ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے اسے [صحیح لغیرہ] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ھامش المسند ۲۸؍۳۴۴) ۔