نے ہمارے لیے ہماری سنتوں کو بیان فرمایا اور ہمیں ہماری نماز سکھلائی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''جب تم نماز پڑھو، تو تم اپنی صفیں درست کرو، پھر تم میں سے ایک تمہاری امامت کرائے، سو جب وہ [اَللّٰہُ اَکْبَرُ] کہے، تو تم بھی [اَللّٰہُ اَکْبَرُ] کہو، جب وہ [غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ] کہے، تو تم
[آمِیْن]
کہو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری ( دُعا) قبول فرمائیں گے۔ '' [1]
ا: [اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ] کہنے والے کی مغفرت:
امام بخاری نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''جب امام [سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ] [2] کہے ،تو تم
[اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ] [3] کہو،
کیونکہ جس کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے کے ساتھ ہو گا ، اس کے سابقہ گناہ معاف کیے جائیں گے۔'' [4]
ب: [رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ…] تحریر کرنے میں فرشتوں کی مسابقت:
امام بخاری نے حضرت رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ
[2] [ ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے اس کی بات کو سن لیا جس نے ان کی تعریف کی ۔]
[3] [ ترجمہ: اے اللہ![اے] ہمارے رب! آپ ہی کے لیے تمام تعریف ہے۔]
[4] صحیح البخاري،کتاب الأذان،باب فضل [اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ] ،رقم الحدیث ۷۹۶، ۲؍۲۸۳۔