امام احمد نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''جس کسی کو کوئی فکر یا غم لاحق ہو اور وہ کہے:
[اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ أَمَتِکَ،٭ نَاصِیَتِيْ بِیَدِکَ، مَاضٍ فِيَّ حُکْمُکَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُکَ، أَسْئَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ھُوَ لَکَ ، سَمَّیْتَ بِہٖ نَفْسَکَ ، أَوْ عَلَّمْتَہٗٗ أَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ، أَوْ أَنْزَلْتَہٗ فِيْ کِتَابِکَ، أَوْ اِسْتَأْثَرْتَ بِہٖ فِيْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِيْ، وَنُوْرَ صَدْرِيْ، وَجِلَآئَ حُزْنِيْ، وَذَھَابَ ھَمِّيْ۔] [1]
تو اللہ تعالیٰ اس کا فکر و غم دور فرما دیں گے اور ان کی جگہ اسے فارغ البالی عطا فرما دیں گے۔'' [2]
ایک اور روایت میں ہے:''لوگو ں میں سے ایک شخص نے عرض کیا:''یا رسول اللہ! ان کلمات [3] سے محروم، تو یقینا محروم ہے۔''
[2] المسند، رقم الحدیث ۳۷۱۲،۵؍۲۶۶۔۲۶۸۔ شیخ احمد شاکر نے اس کی [سند کو صحیح] کہا ہے اور شیخ البانی نے اس [حدیث کو صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ھامش المسند ۵؍۲۶۶؛ وسلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ، رقم الحدیث ۱۹۸،۱؍۱۷۶۔۱۸۱) ۔
[3] یعنی اس دعا سے۔٭ خاتون یہ کہے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَمَتُکَ، وَبِنْتُ عَبْدِکَ، وَبِنْتُ أَمَتِکَ۔'' [ترجمہ: اے اللہ! بے شک میں آپ کی کنیز اور آپ کے بندے کی بیٹی اور آپ کی کنیز کی بیٹی ہوں۔]