فهرس الكتاب

الصفحة 47 من 188

''سورۃ بقرہ پڑھو، کیونکہ اس کا حصول [باعثِ] برکت ہے ، اور اس کا چھوڑنا [سببِ] حسرت ہے ، اور ناکارے اس کی طاقت نہیں رکھتے۔'' [1]

ب: اس کے پڑھے جانے والے گھر سے شیطان کی دوری:

امام ترمذی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

'' لَا تَجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ مَقَابِرَ،وَإِنَّ الْبَیْتَ الَّذِيْ تُقْرَأُ الْبَقَرَۃُ فِیْہِ لَا یَدْخُلُہُ الشَّیْطَانُ۔'' [2]

''اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ، [3] یقینا جس گھر میں [سورۃ] البقرہ پڑھی جائے ، اس میں شیطان داخل نہیں ہوتا۔''

ج: اس کے پڑھے جانے والے گھر سے شیطان کا فرار:

امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' لَا تَجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ مَقَابِرَ۔ إِنَّ الشَّیْطَانَ یَنْفِرُ مِنَ الْبَیْتِ الَّذِيْ تُقْرَأُ فِیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ۔'' [4]

[2] جامع الترمذي،أبواب فضائل القرآن عن رسول اللہ صلي الله عليه وسلم ، باب ما جاء فی سورۃ البقرۃ وآیۃ الکرسي،رقم الحدیث۳۰۳۷ ، ۸؍۱۴۶۔ امام ترمذی نے اسے [حسن صحیح] اور شیخ البانی نے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۸؍۱۴۶؛ وصحیح سنن الترمذي۳؍۴) ۔

[3] یعنی گھر ذکر و طاعت سے خالی ہو کر قبرستان کی طرح نہ ہو جائیں اور تم ان میں مردوں کی مانند ہو جاؤ۔ (ملاحظہ ہو: تحفۃ الأحوذي۸؍۱۴۶) ۔

[4] صحیح مسلم،کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا ،باب استحباب صلاۃ النافلۃ في بیتہ وجوازھا في المسجد،رقم الحدیث ۲۱۲۔ (۷۸۰) ،۱؍۵۳۹۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت