فهرس الكتاب

الصفحة 156 من 188

انہوں نے بیان کیا: '' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے [1] بددعا کرتے ہو ئے کہا:

[اَللّٰہُمَّ اکْفِنَاہُ بِمَا شِئْتَ] [2]

تو اس کے گھوڑے کے قدم پیٹ تک ٹھوس زمین میں دھنس گئے اور اس نے اس [یعنی گھو ڑے] سے چھلانگ لگا دی اور کہنے لگا:

''اے محمد ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔! یقینا میں نے جان لیا ہے ، کہ بلاشبہ یہ آپ کا کام ہے، سو اللہ تعالیٰ سے دُعا کیجئے ، کہ میں جس [عذاب] میں ہوں، وہ مجھے اس سے نجات دے دیں۔'' [3]

۱۷:دشمن کا رُخ پھیر دینے والی دُعا:

امام احمد اور امام بزار نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا:

'' (غزوۂ) خندق کے دن ہم نے عرض کیا:

''یا رسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔! کیاکوئی چیز ہے ، (کہ) ہم کہیں؟ یقینا دل گلوں تک پہنچ چکے ہیں۔''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' ہاں،

[اَللّٰہُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَّوْعَاتِنَا] [4]

[2] ترجمہ: ''اے اللہ! ہمیں اس سے ، جس چیز کے ساتھ آپ چاہیں، کفایت فرمایئے۔''

[3] المسند ، جزء من رقم الحدیث ۳ باختصار، ۱؍۱۵۵۔ شیخ احمد شاکر نے اس کی [سند کو حسن] اور شیخ ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے اسے [ مسلم کی شرط] پر قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ہامش المسند ۱؍۱۵۴(ط: مصر) ؛ و ہامش المسند ۱؍۱۸۴ (ط۔الرسالۃ) ۔

[4] ترجمہ: اے اللہ! ہمارے عیوب کی پردہ پوشی فرمایئے اور ہمارے اندیشوں کو امن (سے بدل) دیجئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت