آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے [جواب میں] فرمایا: ''ہاں، انہیں [خود] پڑھو اور [دوسروں کو] سکھلاؤ، کیونکہ جو انہیں اپنے [غم کو] دور کرنے کی غرض سے پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا غم دور فرما دیتے ہیں اور اس کی خوشی طویل فرما دیتے ہیں۔'' [1]
ا:امام احمد اور امام نسائی نے ابن الصامت رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ انہوں نے بیان کیا ،کہ میں صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ا اور آپ کو ایسا درد تھا ،کہ اللہ تعالیٰ [ہی] اس کی شدت جانتے ہیں۔ [2]
پھر میں پچھلے پہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آنحضرت شفا یاب ہو چکے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''بلاشبہ جبریل نے مجھے دم کیا اور میں تندرست ہو گیا۔ اے ابن الصامت ! کیا میں تمہیں وہ دم نہ سکھاؤں؟''
میں نے عرض کیا: ''کیوں نہیں۔''
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[بِاسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ شَيْئٍ یُؤْذِیْکَ، مِنْ حَسَدِ کُلِّ حَاسِدٍ وَعَیْنٍ، بِاسْمِ اللّٰہِ، یَشْفِیْکَ۔[3] ] [4]
[2] یعنی انتہائی شدید درد۔
[3] [ ترجمہ:''میں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ آپ کو دم کرتا ہوں ہر موذی چیز ، ہر حاسد کے حسد اور بُری نظر سے۔ اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ، وہ آپ کو شفا یاب فرمائیں۔'']
[4] المسند ، رقم الحدیث ۲۲۷۵۹،۳۷؍۴۱۹۔۴۲۰؛ والسنن الکبریٰ ، کتاب عمل الیوم واللیلۃ ، ذکر ما کان جبریل یعوّذبہ النبي صلي الله عليه وسلم ، رقم الحدیث ۱۰۷۷۶، ۹؍۳۶۹۔ الفاظِ حدیث السنن الکبریٰ کے ہیں۔ شیخ شعیب ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے اسے [صحیح لغیرہ ] قرار دیا ہے۔ (ھامش المسند ۳۷؍۴۲۰) ۔