فهرس الكتاب

الصفحة 57 من 188

ان دونوں میں ذکر کردہ دعاؤں میں سے ہر ایک دعا اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں گے۔)''

۵: سورۃ البقرہ اور آل عمران:

دونوں کا اپنے ساتھیوں کے لیے روزِ قیامت جھگڑنا:

امام مسلم نے حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا، کہ:''میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

'' اِقْرَؤُوْا الْقُرْآنَ فَإِنَّہُ یَأْتِيْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَفِیْعًا لِأَصْحَابِہِ۔ اِقْرَؤُوْا الزَّھْرَاوَیْنِ:اَلْبَقَرَۃَ وَسُوْرَۃَ آلِ عِمْرَانَ، فَإِنَّھُمَا تَأْتِیَانِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَأَنَّھَا غَمَامَتَانِ، أَوْ کَأَنَّھُمَا غَیَایَتَانِ،أَوْ کَأَنَھُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَیْرٍ صَوَافٍ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِھما۔'' [1]

'' قرآن پڑھو، کیونکہ وہ روزِ قیامت اپنے اصحاب کے لیے شفاعت کرنے کے لیے آئے گا۔

دو روشنی پھیلانے والی [یعنی] البقرہ اور سورہ آل عمران پڑھو،کیونکہ وہ دونوں سائے کی مانند یا صف باندھے پرندوں کی دو جماعتوں کی طرح اپنے اصحاب کے لیے جھگڑا کریں گی۔''

۶: مسبِّحات [2] کی تلاوت:

ان میں ایک آیت کا ہزار آیات سے بہتر ہونا:

امام ترمذی نے حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ یقینا

[2] (مسبِّحات) : اس سے مراد وہ سورتیں جن کے آغاز میں [سُبحَان] یا [سَبَّحَ] یا [یُسَبِّحُ] یا [سَبِّحْ] ہے ۔ اور وہ سات سورتیں ہیں: سُبْحَانَ الَّذِيْ أَسْرٰی،اَلْحدیْد،الحشر، الصف، الجمعۃ، التغابن اور الأعلٰی۔ (ملاحظہ ہو: تحفۃ الأحوذي ۸؍۱۹۲) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت