'' [تو] اس وقت کہا جاتا ہے:''تجھے ہدایت دی گئی [1] ، تو کفایت کیا گیا ، [2] اور تو بچایا گیا ۔ ''
شیطان اس سے دور ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرا شیطان کہتا ہے:'' تو ایسے شخص کو کیسے گمراہ کر سکتا ہے ،جو بلاشبہ ہدایت دیا گیا ، کفایت کیا گیا اور بچایا گیا ؟'' [3]
امام احمد نے سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ انہوں نے بیان کیا:''جب کوئی سفر کا ارادہ کرنے والا شخص میرے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آتا ، تو وہ اسے فرماتے:
''قریب ہو جاؤ ،تاکہ میں بھی تمہیں اسی طرح الوداع کروں ، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں الوداع فرمایا کرتے تھے، پھر وہ فرماتے:
[أَسْتَوْدِعُ اللّٰہَ دِیْنَکَ ، وَأَمَانَتَکَ ، وَخَوَاتِیْمَ أَعْمَالِکَ۔[4] ] [5]
امام احمد نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ،کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[2] اپنے غموں سے ۔
[3] سنن أبي داود، کتاب الأدب ، باب ما یقول إذا خرج من بیتہ ، رقم الحدیث ۵۰۸۴، ۱۳؍ ۲۹۷۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود ۳؍۹۵۹) ۔
[4] [ترجمہ: ''میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے آخری اعمال اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔'']
[5] المسند ، رقم الحدیث ۴۵۲۴،۸؍۱۱۹۔ شیخ ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ھامش المسند ۸؍۱۱۹) ۔