فهرس الكتاب

الصفحة 167 من 188

ب: سلام میں پہل تقربِ الٰہی کا ذریعہ:

امام ابوداؤد نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ انہوں نے فرمایا:'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

'' بلاشبہ لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ مقرب وہ ہے ،جس نے سلام کہنے میں پہل کی ۔'' [1]

ج: سلام کے بدلے میں نیکیاں:

امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ انہوں بیان کیا ،کہ: ''ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ''اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔'' [2]

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس [کے سلام] کا جواب دیا۔ پھر وہ بیٹھ گیا ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''دس [نیکیاں] ۔''

پھر ایک اور شخص حاضر ہوا ، تو اس نے کہا: ''اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔'' [3]

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس [کے سلام] کا جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا ، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بیس [نیکیاں] ۔''

پھر ایک اور شخص حاضر ہو ا ،تو اس نے کہا: ''اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ۔ [4]

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس [کے سلام] کا جواب دیا ۔وہ بیٹھ گیا ، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم

[2] [ترجمہ '' آپ پر سلام ہو۔'']

[3] [ترجمہ:'' آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ۔'']

[4] [ترجمہ:'' آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ان کی برکتیں۔'']

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت