رُّسُلِہٖ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَ أَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَ إِلَیْکَ الْمَصِیْرُ [1]
جب انہوں نے ایسا کیا ،تو اللہ تعالیٰ نے اسے [یعنی سابقہ آیت میں بیان کردہ بات کو] منسوخ فرما دیا اور نازل فرمایا:
{لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَھَا مَا کَسَبَتْ وَ عَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ إِنْ نَّسِیْنَآ أَوْ أَخْطَاْنَا} [2]
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: ''ہاں۔'' [3]
{رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا} [4]
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: ''ہاں۔''
{رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہ} [5]
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: ''ہاں۔''
[2] سورۃ البقرۃ؍ جزء من الآیۃ ۲۸۶۔ [ترجمہ: وہ کسی جان کو اس کی استطاعت سے زیادہ مکلف نہیں کرتے، اس کے لیے اس کی نیکی کا اجر ہے اور اس پر اس کے گناہ کا وبال ہے ، اے ہمارے رب! بھول چوک اور غلطی پر ہمارا مواخذہ نہ فرمانا۔]
[3] ایک دوسری روایت میں ہے: ''قَدْ فَعَلْتُ۔'' [میں نے ایسے کیا (یعنی جو کچھ تم نے طلب کہا، وہ تمہیں عطا فرمایا) ] ۔ (ملاحظہ ہو: صحیح مسلم، کتاب الإیمان ،باب بیان أن اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ لم یکلف إلا مایطاقُ ، رقم الحدیث ۲۰۰ ۔(۱۲۶) ، ۱؍۱۱۶)۔
[4] [ترجمہ: اے ہمارے رب! اور ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالنا ،جیسا کہ آپ نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔]
[5] [ترجمہ:اے ہمارے رب! اور ہم پر اس قدر بوجھ نہ ڈالنا ،جس کی ہم میں طاقت نہ ہو۔]