فهرس الكتاب

الصفحة 1336 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: دسویں پارے کے آخر اور اس آیت سے پہلے یہ فرمایا گیا ہے کہ جن منافقوں نے غزوہ تبوک میں شرکت نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر ثبت کردی ہے۔ اب وہ جہاد کی فضیلت اور دین کی حقیقت کو نہیں جان سکتے۔ لہٰذا یہ لوگ آپ کی واپسی پر معذرت کریں تو ان کی معذرت قبول نہ کی جائے۔

منافقوں کا اندازہ اور ان کی تمنا یہ تھی کہ سلطنت روما کا فرماں روا مسلمانوں کی طاقت کو اس طرح کچل ڈالے گا کہ یہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گے لیکن روم کے لشکر مسلمانوں کی تاب نہ لا سکے اور انھوں نے اپنی پسپائی میں خیر سمجھی۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رومیوں کا تعاقب کرنے کی بجائے کچھ دن محاذ پر قیام فرمایا اور بالآخر لشکر اسلام کو واپسی کا حکم دیا۔ منافقین کو اس صورت حال کی خبر پہنچی تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی واپسی پر روایتی حیلہ سازیوں سے آپ کی خدمت میں معذرتیں پیش کرنا

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت