فهرس الكتاب

الصفحة 6053 من 6343

سورۃ الغاشیہ کا تعارف

یہ مکی سورت ہے اس کا نام اس کی پہلی آیت کا آخری حصہ ہے یہ ایک رکوع اور چھبیس آیات پر مشتمل ہے اس سورت میں بنیادی طور پر دو مضمون بیان کیے گئے ہیں پہلا یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کے بارے میں غافل یا اس کا انکار کرتے ہیں انہیں انتباہ کیا گیا ہے جس میں مخاطب کی ضمیر استعمال کی گئی ہے۔ اس میں بظاہر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کیا گیا ہے لیکن حقیقت میں یہاں ہر اس شخص کو مخاطب کیا گیا ہے جو قیامت کو جھٹلانے والا ہے چنانچہ ارشاد ہوا:

کیا تمھارے پاس ہر چیز پر چھا جانے والی آفت کی خبر نہیں پہنچی اس دن کئی چہرئے خوف زدہ ہوں گے جو شدید کرب میں مبتلا ہوں گے اور انہیں دہکتی ہوئی آگ میں پھینک دیا جائے گا وہاں انہیں پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی اور کھانے کے لیے کانٹے دار جھاڑیاں دی جائیں گی ان کے مقابلے میں وہ خوش نصیب ہوں گے جنہیں جنت عالیہ میں رکھا جائے گا وہ اس میں کسی قسم کی بے ہودگی اور آلودگی نہیں پائیں گے اس میں چشمے جاری ہوں گے جنتی جنت میں ٹیک لگا کر قطار اندر قطار تشریف فرما ہوں گے۔ جہنمیوں کے لیے عذاب اور جنتیوں کے لیے انعام کا ذکر کرنے کے بعد اونٹ کی خلقت اور پہاڑوں کی تنصیب اور زمین کی وسعت کا ذکر فرما کر حکم ہوا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ لوگوں کو نصیحت کرتے رہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو کسی پر جبر کرنے والا نہیں بنایا البتہ جو شخص اس سے منہ موڑے گا وہ بڑے عذاب میں مبتلا ہوگا حقیقت یہ ہے کہ ہماری طرف ہی لوگوں کا پلٹنا ہے اور ان کا حساب لینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت