فهرس الكتاب

الصفحة 4633 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: صحابہ کرام (رض) کو فتح مکہ کی خوشخبری سنانے کے ساتھ جنت کی خوشخبری بھی دی گئی۔

اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حدیبیہ کے مقام پر بر وقت اور ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے کی راہنمائی فرمائی اور مومنوں پر اطمینان اور سکون نازل فرمایا تاکہ مومنوں کے ایمان میں مزید اضافہ ہوجائے۔ حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمانوں کے لشکر اور قوتیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ وہ سب کچھ جاننے والا ہے اور اس کے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ " یَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا" کے الفاظ فرما کر صحابہ کرام (رض) کو بتلایا ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر جو معاہدہ ہوا تھا اس میں اللہ تعالیٰ کی راہنمائی اور توفیق شامل حال تھی اس لیے یہ معاہدہ ہر اعتبار سے صحیح ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں صحابہ کرام (رض) کو کامیابیاں عطا فرمائیں اور آخرت میں مومن اور مومنات کو جنت میں داخل فرمائے گا جس کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور جنتی اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی پہلی پانچ آیات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ (رض) کو پانچ، پانچ خوشخبریاں سنائیں۔

(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ(رض) عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِی الْجَنَّۃِ لَخَیْمَۃً مِنْ لُؤْلُؤَۃٍ وَاحِدَۃٍ مُجَوَّفَۃٍ طُوْلُھَا سِتُّوْنَ مِیْلًا لِلْمُؤْمِنِ فِیْھَا أَھْلُوْنَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمُ الْمُؤْمِنُ فَلَا یَرٰی بَعْضُھُمْ بَعْضًا) (رواہ مسلم: باب فی صفۃ خیام الجنۃ ....)

" حضرت عبداللہ بن قیس اپنے باپ سے اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ کا فرمان ہے کہ جنت میں مومن کے لیے موتی کا ایک ایسا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی وہاں مومن کے گھر والے ہوں گے جن کے ہاں وہی جائے گا دوسرا انہیں نہیں دیکھ سکے گا۔"

عربی لغت " المنجد" کے مطابق " اَلسَّکِیْنَۃُ" کا معنٰی سکون، اطمینان، سنجیدگی اور وقار ہے۔

مسائل

اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس موقعہ پر پانچ اور صحابہ (رض) کو چار خوشخبریاں دیں:

1۔ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کی صورت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عظیم فتح عطا فرمائی اور اسلام کی کامیابی کے لیے راستہ کھول دیا۔

2۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اگلے پچھلے گنا ہوں کو معاف فرمادیا۔

3۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنی نعمت پوری کرنے کا وعدہ فرمایا۔

4۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے مقابلے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبردست مدد فرمائی۔

5۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صراط مستقیم پر قائم رکھنے کی گارنٹی دی۔

1۔ صحابہ اور صحابیات (رض) کو دنیا اور آخرت کی کامیابی سے سرفراز فرمایا۔

2۔ صحابہ اور صحابیات (رض) کے گناہ معاف کرنے کی خوشخبری سنائی۔ 3۔ صحابہ (رض) کے ایمان میں مزید اضافہ فرمایا۔

4۔ صحابہ اور صحابیات (رض) کو ہمیشہ کے لیے جنت میں داخلے کی خوشخبری سنائی۔

تفسیر بالقرآن

اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں کو دنیا اور آخرت کی کامیابیوں سے سرفراز کیا:

1۔ بدر میں مشرکین پسپا ہوئے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔ (آل عمران: 123 تا 127)

2۔ احد میں پہلے مسلمان غالب رہے۔ (آل عمران: 152)

3۔ 8 ہجری کو اہل مکہ مغلوب ہوئے اور مسلمان کامیاب ہوئے۔ (الفتح: 1)

4۔ غزوۂ حنین میں مشرک شکست کھا گئے اور مسلمان کامیاب رہے۔ (التوبہ: 26)

5۔ جنگ خندق میں اہل مکہ اور دیگر قبائل کو شکست ہوئی۔ (الاحزاب: 25 تا 27)

6۔ صحابہ (رض) دنیا و آخرت میں کامیاب ہوئے۔ (المجادلہ: 22)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت