حسد:
حسد ایسا مرض ہے کہ جو شخص اس میں مبتلا ہوجائے وہ حسد کی وجہ سے کسی کی عزت وتکریم کو برداشت نہیں کرتا، بسا اوقات یہ بیماری اس قدر خطرناک صورت اختیار کرجاتی ہے کہ حاسد کو اپنی عزت کا بھی خیال نہیں رہتا۔ اس لیے ایسے شخص کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ(رض) أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ) (رواہ ابوداؤد: کتاب الادب، باب فی الحسد)
" حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ سوکھی لکڑیاں کھا جاتی ہے۔"
حسد کا علاج:
(وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ للرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْا وَ للنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ وَسْءَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا) (النساء: 32)
" اور اس چیز کی آرزو نہ کرو جس کے باعث اللہ نے تمہیں ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ مردوں کا اس میں حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کے لیے اس میں حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور اللہ سے اس کا فضل مانگتے رہو یقیناً اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔"
جادو:
عربی لغت کے لحاظ سے سحر کے کئی معانی بیان کیے گئے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ ایسا کلام یا عمل جس کے ذریعے شیطان کی قربت یامدد حاصل کی جائے، جادو کا علم سیکھنا کفر ہے اس لیے اس سے منع کیا گیا ہے۔
جادو کفر یہ' شرکیہ' اوٹ پٹانگ الفاظ یا جس طریقے سے بھی کیا جائے وہ کفر ہے:
( وَمَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَلٰکِنَّ الشَّیَاطِیْنَ کَفَرُوْ ایُعَلِّمُوْنَ النَّاس السِّحْرَ) (البقرۃ: 102)
" سلیمان نے کفر نہیں کیا لیکن کفر تو شیطان کرتے تھے جو لوگوں کو جادو سکھلاتے تھے۔"
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان:
(لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَطَیَّرَ اَوْتُطُیِّرَلَہٗ اَوْتَکَھَّنَ اَوْتُکُھِّنَ لَہُ اَوْ سَحَرَ اَوْ سُحِرَ لَہُ وَمَنْ اَتیٰ کَا ھِنًا فَصَدَّقَہُ بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْ کَفَرَ بِمَااُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ) (الترغیب والترہیب)
" جو شخص فال نکالے یا اس کے لیے فال نکالی جائے، کوئی غیب کی خبریں دے یا اس کے لیے کوئی دوسرا ایسی خبر دے، کوئی خود جادوگر ہو یا دوسرا شخص اس کے لیے جادو کرے وہ ہم میں سے نہیں، جو کوئی ایسے شخص کے پاس جائے اور اسکی باتوں کی تصدیق کرے اس نے ہر اس بات کا انکار کیا جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی ہے۔"
(عَنْ عَاءِشَۃَ(رض) قَالَتْ سُحِرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حَتّٰی اِنَّہٗ لَیُخَیَّلُ اِلَیْہِ فَعَلَ الشَّیْئَ وَمَا فَعَلَہٗ حَتّٰی اِذَا کَانَ ذَاتَ یَوْمٍ عِنْدِیْ دَعَااللّٰہَ وَدَعَاہُ ثُمَّ قَالَ اَشَعَرْتِ یَاعَاءِشَۃُ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَفْتَانِیْ فِیْمَا اسْتَفْتَیْتُہٗ جَاءَ نِیْ رَجُلَانِ جَلَسَ اَحَدُھُمَا عِنْدَ رَاْسِیْ وَالْاٰخَرُ عِنْدَ رِجْلِیْ ثُمَّ قَالَ اَحَدُھُمَا لِصَاحِبِہٖ مَا وَجْعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوْبٌ قَالَ وَمَنْ طَبَّہٗ قَالَ لَبِیْدُ ابْنُ الْاَعْصَمِ الْیَھُوْدِیُّ قَالَ فِیْمَاذَا قَالَ فِیْ مُشْطٍ وَّمُشََاطَۃٍ وَّجُفِّ طَلْعَۃٍ ذَکَرٍ قَالَ فَاَیْنَ ھُوَ قَالَ فِیْ بِءْرِ ذِیْ اَرْوَانَ فَذَھَبَ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِیْ اُنَاسٍ مِّنْ اَصْحَابِہٖ اِلَی الْبِءْرِ فَقَالَ ھٰذِہِ الْبِءْرُ الَّتِیْ اُرِیْتُھَا وَکَأَنَّ مَاءَ ھَا نُقَاعَۃُ الْحِنَّاءِ وَکَأَنٍَّ نَخْلَھَا رُءُ وْسُ الشَّیاَطِیْنِ فَاسْتَخْرَجََہٗ۔)
(رواہ البخاری: باب السحر)
" حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا گیا آپ سوچتے کہ میں نے فلاں کام کرلیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔ ایک دن آپ میرے پاس تھے، فرمایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور پھر بتلایا اے عائشہ ! کیا تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے میں نے جس چیز کی استدعا کی تھی' اللہ تعالیٰ نے اس کی مجھے خبر دے دی ہے، میرے پاس دو فرشتے آئے ان میں سے ایک میرے سر کی طرف بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی طرف بیٹھا، ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے پوچھا اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے جواب دیا، اس پر جادو کیا گیا ہے، پہلے نے پوچھا آپ پر کس نے جادو کیا ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا لبیدبن اعصم یہودی نے، پہلے نے پوچھا کس چیز میں جادو کیا گیا ہے؟ دوسرے نے بتایا کہ کنگھی اور کنگھی میں پھنسے ہوئے بالوں اور نر کھجور کے خوشے کی جڑ میں، پہلے نے پوچھا وہ کہاں ہے ؟ دوسرے نے بتایا ذی اروان نامی کنویں میں ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چند صحابہ کے ساتھ اس کنویں پر گئے اور آپ نے فرمایا: یہی وہ کنواں ہے، جو مجھے دکھایا گیا تھا۔ اس کا پانی مہندی کے رنگ جیسا تھا اور اس کے پاس جو کھجوریں تھیں وہ شیاطین کے سروں کی مانند تھیں، آپ نے جادو کی ہوئی چیزوں کو نکلوایا اور اس کے بعد آپ ٹھیک ہوگئے۔"
" حضرت عائشہ (رض) کا فرمان ہے کہ اس کنویں کے درختوں سے بھی خوف محسوس ہوتا تھا۔ جب وہ پتلا وہاں سے نکالا گیا توحضرت جبرائیل امین تشریف لائے تو انہوں نے بالوں کی گرہیں کھولنے اور جادو کے اثرات ختم کرنے کے لیے فرمایا آپ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی ایک ایک آیت پڑھتے جائیں یہ گیارہ آیات ہیں اس طرح گیارہ گرہیں کھولتے ہوئے سوئیاں نکال دی جائیں آپ کی نگرانی میں صحابہ کرام (رض) نے ایسا کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طبیعت اس طرح ہشاش بشاش ہوگئی جس طرح کسی جکڑے ہوئے انسان کو کھول دیا جائے اس کے بعدآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معمول تھا کہ رات سوتے وقت ان سورتوں کی تلاوت کر کے جہاں تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پہنچتے اپنے آپ کو دم کیا کرتے تھے جس کی تفصیل معوذتین کے باب میں بیان کی جائے گی۔" (صحیح بخاری: کتاب الطب، باب السحر)
اس واقعہ پر ہونے والے اعتراضات اور ان کے جوابات:
غیرمسلم اور منکرین حدیث اس واقعہ پر اعتراضات کرتے ہوتے ہوئے درج ذیل سوالات اور شبہات پیدا کرتے ہیں: نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کے اثرات تسلیم کرلیے جائیں تو کفار کے اس اعتراض کا جواب دینا مشکل ہوگا:
(وَقَال الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلاً مَّسْحُوْرًا۔) (الفرقان: 8)
" اور ظالموں نے کہا کہ تم صرف ایک جادو زدہ آدمی کی پیروی کرتے ہو۔"
1۔ اہل مکہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو ہونے کا الزام نبوت کے ابتدائی دور میں لگایا تھا یہ واقعہ مدینہ طیبہ میں صلح حدیبیہ کے بعد نبوت کے بیسویں سال پیش آیا یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی شخص نے اپنی تائید کے لیے اس اہل مکہ کے الزام کو ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا۔
2۔ نبی پر جادو ہونا ناممکن نہیں کیونکہ آپ اپنی زندگی میں بیمار ہوئے اور غزوہ احد میں زخمی بھی ہوئے تھے بحیثیت انسان زندگی میں آپ کو کئی پریشانیاں اور جسمانی تکلفیں بھی اٹھانا پڑیں لہٰذا آپ پر جادو کا اثر انداز ہونا خلاف عقل نہیں ہے۔
3۔ جادو کے اثرات نبوت کے امور پر اثر انداز نہیں ہوئے تھے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کی ذمہ داری کا ذمّہ لیا ہوا ہے۔ (القیامہ: 19) یہی وجہ ہے کہ اس تکلیف کے دوران کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی مسئلہ الٹ بیان کردیا ہو۔
جادو اور بیماری میں فرق:
بسا اوقات جادو اور بیماری کے اثرات یکساں ہوتے ہیں اس لیے سب سے پہلے ڈاکٹر سے علاج کروانا چاہیے۔ میڈیکل رپورٹس کے بعد اگر یقین کی حد تک معلوم ہوجائے کہ مریض کو جسمانی بیماری نہیں اور مریض میں درج ذیل علامات پائی جائیں تو پھر جادو اور جنّاتی اثرات کو زائل کرنے کے لیے قرآن وسنت کے مطابق علاج کرنا چاہیے۔
جادو کی علامات:
1۔ بلاسبب میاں بیوی کے درمیان نفرت اور ایک دوسرے سے دور رہنے میں اطمینان محسوس کرنا۔
2۔ گھر میں بلاوجہ اختلافات بڑھتے جانا۔
3۔ گندہ رہنے میں سکون محسوس کرنا۔
4۔ ڈراؤنی چیزوں کا نظر آنا۔
5۔ کپڑوں پر خون کے چھینٹے پڑنا۔
6۔ چوری کی واردات کے بغیر چیزوں کا غائب ہوجانا۔
7۔ روحانی علاج کے وقت شیطانی علامات ظاہر ہونا۔
8۔ جسمانی عارضہ اور کسی واقعاتی پریشانی کے بغیر یک دم نسیان کا شکار ہونا۔
9۔ بغیر بیماری کے طبیعت میں چڑ چڑا پن پیدا ہونا اور اس کا روز بروز بڑھتے ہی جانا۔
0۔ ذکر الٰہی بالخصوص نماز اور تلاوت قرآن سے دل میں دوری پیدا ہونا۔
!۔ مارکیٹ تیز ہونے اور کاروباری رویّہ درست ہونے کے باوجود یک دم کاروبار کا بند ہوجانا۔
جادو، ٹونے کا شرعی علاج:
جو شخص جادو یا جنات کے اثرات محسوس کرے اسے درج ذیل اقدامات کرنے چاہییں۔ کیونکہ دین نے ایسا کرنے کی رہنمائی فرمائی ہے۔
طہارت کا اہتمام:
طہارت اور صفائی کا خصوصی اہتمام کیا جائے اور ہر وقت باوضو رہنا سنّت بھی ہے اور مفید بھی۔
خوشبو کا استعمال:
خوشبو کا استعمال کرنا سنت بھی ہے اور مفید بھی۔
تلاوت قرآن مجید اور کثرت ذکر:
ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے خاص کر گھر میں قرآن مجید کی تلاوت اور نوافل پڑھنا۔ یاد رکھیے کہ قرآن مجید کی تلاوت کم از کم اتنی آواز میں ہونی چاہیے کہ پڑھنے والے کو قرآن مجید کے الفاظ سنائی دیں۔
دَم کرنا:
سورۃ البقرۃ، آیت الکرسی اور آخری تین سورتیں یعنی سورۃ اخلاص اور معوذتین کے ساتھ صبح' شام تین تین مرتبہ پڑھ کر اپنے آپ کو دم کرنا سنت ہے۔
مسلسل دعا:
رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب جادو ہوا تو آپ اللہ تعالیٰ سے بار بار دعا کرتے تھے۔ لہٰذا ایسی صورت حال میں مریض کو اٹھتے بیٹھتے ہر وقت دل اور زبان سے اللہ کے حضور اس مصیبت سے نجات کی التجائیں کرنی چاہئیں۔
اذان دینا:
اثرات زدہ گھر میں اذان کہنی چاہیے کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ اذان سن کر شیطان دور بھاگ جاتا ہے۔
لعنت بھیجنا:
جادو کرنے، کروانے والے اور شیطان کو ذہن میں رکھتے ہوئے کثرت کے ساتھ درج ذیل الفاظ پڑھنا چاہییں کیونکہ جب نماز کی حالت میں ایک جن نے آگ کا بگولہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ مبارک کے قریب کیا تھا تو آپ نے یہ الفاظ کہے تھے اور آپ کا ارشاد ہے کہ جب کوئی لعنت کرنے والا لعنت کرتا ہے اگر وہ واقعتا مظلوم ہے تو اسکی لعنت ظالم پر ضرور اثر انداز ہوگی۔
(عَلَیْھِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَلْمَلٰءِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ) (البقرۃ: 161)
مسائل
1۔ سب کو اپنے " رب" سے پناہ مانگنا چاہیے جو رات کے بعد صبح طلوع کرنے والا ہے۔
2۔ رات کے اندھیرے اور ہر چیز کے شر سے پناہ مانگنی چاہیے۔
3۔ جادو، ٹونا کرنے والی عورتوں اور حاسد کے حسد سے پناہ مانگنی چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
" رب" کا معنٰی:
1۔ لوگو! اس رب سے ڈر جاؤ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ (النساء: 1)
2۔ تمہارا رب ہر چیز کو پیدا کرنے والاہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں تم کہاں بہک گئے ہو ؟ (المومن: 62)
3۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو آپ فرما دیں تمھارا رب وسیع رحمت والا ہے۔ (الانعام: 147)
4۔ یہ تمھارا رب ہے اس کے سوا دوسرا کوئی خالق نہیں۔ (الانعام: 102)