فهرس الكتاب

الصفحة 5188 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: مدینہ سے یہودیوں کے اخراج کا ذکرجاری ہے۔

نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنونضیر کا محاصرہ کرنے کے لیے کھجوروں کے کچھ درخت کاٹنے کا حکم دیا جس پر منافقین اور یہودیوں نے پراپیگنڈہ کیا کہ " محمد" نے جہاد کے نام پر فساد فی الارض شروع کردیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے درخت کاٹنے کے عمل کو اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے مومنو! تم نے جو کھجور کے درخت کاٹے یا جنہیں اپنی حالت پر کھڑے رہنے دیا یہ اللہ کا حکم تھا اور یہ حکم اس لیے دیا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ذلیل کرے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ناگزیر حالات میں دشمن کی جائیداد اور فصل کوتباہ کیا جاسکتا ہے البتہ اہم مجبوری کی صورت کے بغیر دشمن کی جائیداد اور فصل کو نقصان پہچانا جائز نہیں۔

(کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اَمَرَاُمَرَاؤَہٗ اَن لَّا ےَقْتُلُوْا اِلَّامَنْ قَاتَلَھُمْ)

(فتح الباری: باب این رکز النبی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الرایۃ یوم الفتح)

" رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فوجی افسروں کو حکم دیا تھا کہ ان لوگوں سے جنگ نہیں کرنا جو تم سے لڑنا نہیں چاہتے۔"

(لَا تَقْتُلُوا شَےْخًا فَانِےًا وَّلَا طِفْلاً وَّلَا صَغِےْرًا وَّلَا اِمْرَاَۃً) (مشکوٰۃ: باب القتال فی الجہاد)

" بوڑھوں، نو عمر لڑکوں، بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرو۔"

(عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ وَہَذَا حَدِیثُ ابْنِ أَبِی شَیْبَۃَ قَالَ بَعَثَنَا رَسُول اللَّہِ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِی سَرِیَّۃٍ فَصَبَّحْنَا الْحُرَقَاتِ مِنْ جُہَیْنَۃَ فَأَدْرَکْتُ رَجُلاً فَقَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَطَعَنْتُہُ فَوَقَعَ فِی نَفْسِی مِنْ ذَلِکَ فَذَکَرْتُہُ للنَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَقَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَقَتَلْتَہُ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُول اللَّہِ إِنَّمَا قَالَہَا خَوْفًا مِنَ السِّلاَحِ قَالَ أَفَلاَ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہِ حَتَّی تَعْلَمَ أَقَالَہَا أَمْ لاَ فَمَازَالَ یُکَرِّرُہَا عَلَیَّ حَتَّی تَمَنَّیْتُ أَنِّی أَسْلَمْتُ یَوْمَءِذٍ قَالَ فَقَالَ سَعْدٌ وَأَنَا وَاللَّہِ لاَ أَقْتُلُ مُسْلِمًا حَتَّی یَقْتُلَہُ ذو الْبُطَیْنِ یَعْنِی أُسَامَۃَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ أَلَمْ یَقُلِ اللَّہُ (وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُون الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ) فَقَالَ سَعْدٌ قَدْ قَاتَلْنَا حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَأَنْتَ وَأَصْحَابُکَ تُرِیدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّی تَکُونَ فِتْنَۃٌ) (رواہ مسلم: کتاب الإیمان، باب تحریم قتل الکافر بعد أن قال لاإلہ إلا اللّٰہ)

" حضرت اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سریہ (جنگ) میں بھیجا ہم صبح صبح جہینہ کے علاقہ میں پہنچ گئے میں نے وہاں ایک دشمنوں کے آدمی کو پایا اس نے مجھے دیکھ کر لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ، کہا لیکن میں نے اسے قتل کردیا پھر میرے دل میں کچھ خلجان سا پیدا ہوا کہ میں نے مسلمان کو قتل کیا یا کافر کو؟ میں نے اس کی خبر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا اس نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ پڑھا اور پھر بھی تم نے اسے قتل کردیا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس نے کلمہ تلوار کے ڈر سے پڑھا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ اس نے دل سے کہا تھا یا نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باربار یہی کلمات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں یہ خواہش کرنے لگا کہ کاش میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا حضرت سعد (رض) نے کہا اللہ کی قسم میں مسلمان کو قتل نہیں کروں گا جب تک کہ اس کو اسامہ قتل کردیں ایک آدمی نے کہا کہ کیا اللہ عز وجل نے نہیں فرمایا کافروں سے اس وقت تک قتال کرو جب تک کہ فتنہ نہ رہے اور اللہ کا دین عام ہوجائے حضرت سعد (رض) نے کہا کہ ہم فتنہ مٹانے کے لئے جہاد کر رہے ہیں اور تمہارے ساتھی فتنہ پھیلانے کے لئے جنگ کر رہے ہیں۔"

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے بھی اس بات کا خیال رکھا کہ نہ صرف آبادی پر کسی قسم کی زیادتی نہ ہونے پائے بلکہ جانوروں اور کھیتوں کو بھی کوئی نقصان نہ پہنچنے۔ شام پر فوج کشی کا ارادہ کیا تو فوج کو رخصت کرتے وقت سپہ سالارکو ہدایات فرمائیں:

" تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی عبادت کے لیے وقف کر رکھا ہے ان کو چھوڑ دینا۔ میں تم کو دس وصیتیں کرتا ہوں کسی عورت، بچے اور بوڑھے کو قتل نہ کرنا، پھل دار درخت نہ کاٹنا، آبادیوں کو ویران نہ کرنا، بکری اور اونٹ کو ذبح کرنے کے سوا بے وجہ نہ مارنا، باغات کو نہ جلانا، مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا اور بزدلی نہ دکھانا۔" (تاریخ الخلفاء: سیوطی)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں تقریبا پوراجزیرۃ العرب زیر نگیں ہوچکا تھا۔ غیر مسلم رعایا کی حیثیت سے سب سے پہلے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ معاہدہ کیا ان کو آپ نے جو حقوق دیے وہ اب تک تاریخ میں محفوظ ہیں جن کو من وعن نقل کیا جاتا ہے۔

اہل نجران کے ساتھمحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معاہدہ:

(وَلِنَجْرَانَ وَحَاشِےَتِھَا جَوَار اللّٰہِ وَذِمَّۃُ مُحَمَّدِ النَّبِیِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَمِلَّتِھِمْ وَاَرْضِھِمْ وَاَمْوَالِھِمْ وَغَاءِبِھِمْ وَشَاھِدِھِمْ وَعِےْرِھِمْ وَبَعْثِھِمْ وَاَمْثِلَتِھِمْ لَا ےُغَیَّرُ مَا کَانُوْا عَلَےْہِ وَلَا ےُغَیَّرُ حَقٌ مِنْ حُقُوْقِھِمْ وَاَمْثِلَتِھِمْ وَلَا ےُفَتَّنَّ اُُسُقُّفٌ مِنْ اَسْقِفِیَّتِہٖ وَلَا رَاھِبٌ مِنْ رَھْبَانِیَّتِہَٖ ولاَ وَاقِہٌ مِنْ وَقَاھِےْنَتِۃٖ عَلٰی مَا تَحْتَ اَےْدِےْھِمْ مِنْ قَلِےْلٍ اَوْ کَثِےْرٍ وَّلَےْسَ عَلَےْھِمْ رَھْقٌ وَلَا دَمُّ جَاھِلِیَّۃٍ وَلَا ےُحْشَرُوْنَ وَلَا ےُعْشَرُوْنَ وَلَا ےَطَاءُ اَرْضَھُمْ جَےْشٌ مَنْ سَاَلَ مِنْھُمْ حَقًّافَبَےْنَھُمُ النِّصْفُ غَےْرَ ظَالِمِےْنَ وَلَا مَظْلُوْمِےْنَ بِنَجْرَانَ وَمَنْ اَکَلَ مِنْھُمْ رِبًا مِنْ ذِی قِبَلٍ فَذِمَّتِی مِنْہُ بَرِےْءَۃٌ وَلَا ےُؤْخَذُ مِنْھُمْ رَجُلٌ بِظُلْمِ اَخَرَ وَلَھمُْ عَلٰی مَا فِی ھَذٰہِ الصَّحِےْفَۃِ جَوَار اللّٰہِ وَذِمَّۃُ مُحَمَّدِالنّٰبِی اَبَدًا حَتَّی ےَاْتِی اَمَرُ اللّٰہِ مَا نَصَحُوا واصْلَحُوا فِےْمَا عَلَےْھِمْ غَےْرَ مُکَلِّفِےْنَ شَےْءًا بِظُلْمٍ) (فتوح البلدان: کتاب الخراج، امام ابو یوسف)

" نجران اور اس کے رہنے والوں کی جانیں، ان کا مذہب، ان کی زمینیں، ان کا مال، ان کے حاضرو غائب، ان کی مورتیاں، ان کے قافلے اور قاصد، اللہ کی امان اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ضمانت میں ہوں گے۔ ان کی موجودہ حالت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی ان کے حقوق میں سے کسی حق میں مداخلت نہیں کی جائے گی، کوئی اسقف اپنی اسقفیت سے، کوئی راہب اپنی رہبانیت سے، کنیسہ کا کوئی منتظم اپنے عہدہ سے ہٹایانہ جائے گا، اور جو کچھ بھی ان کے قبضے میں ہے اسی طرح رہے گا۔ ان کے زمانۂ جاہلیت کے کسی جرم یا خون کا بدلہ نہ لیا جائے گا، نہ ان سے فوجی خدمت لی جائے گی اور نہ ان پر عشر لگایا جائے گا اور نہ اسلامی فوج ان کے علا قے کو پامال کرے گی۔ ان میں سے جو شخص اپنے کسی حق کا مطالبہ کرے گا تو اس کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ نہ انہیں ظلم کرنے دیا جائے گا اور نہ ان پر ظلم ہوگا۔ ان میں سے جو شخص سود کھائے گا وہ میری ضمانت سے بری ہے۔ اس صحیفہ میں جو لکھا گیا ہے اس کے ایفا کے بارے میں اللہ کی امان اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذمہ داری ہے یہاں تک کہ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا کوئی دوسرا حکم نازل ہو۔ جب تک یہ لوگ مسلمانوں کے خیر خواہ رہیں گے ان کے ساتھ کیے ہوئے معاہدہ کی پابندی کریں گے ان کو جبراً کسی بات پر مجبور نہ کیا جائے گا۔"

مسائل

1۔ اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کے محاصرے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ ان کے درخت کاٹ دیئے جائیں۔

2۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو دنیا میں بھی ذلیل کرتا ہے۔

تفسیر بالقرآن

اللہ تعالیٰ نے نافرمان قوموں کودنیا میں ذلیل کیا:

1۔ یہودی دنیا میں ذلیل اور آخرت میں سخت عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔ (البقرۃ: 85)

2۔ اللہ کی مسجدوں سے روکنے والے دنیا وآخرت میں ذلیل ہوں گے۔ (البقرۃ: 114)

3۔ کفار کو دنیا وآخرت میں شدید عذاب ہوگا۔ (الرعد: 34، آل عمران: 56)

4۔ اللہ اور اس کے رسول کے دشمن اور فسادی دنیا وآخرت میں عذاب کے مستحق قرار پائیں گے۔ (المائدۃ: 33)

5۔ بچھڑے کے پجاری دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ (الاعراف: 152)

6۔ منافقین کو دنیا وآخرت میں سزا ہوگی۔ (التوبہ: 74) (النور: 19) (الزمر: 26)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت