فهرس الكتاب

الصفحة 4814 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: جنت کے انعامات اور ان کے جذبات کا ذکر کرنے کے بعد خطاب کا رخ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ آپ کی دعوت کا مقصد لوگوں کو رب کریم اور اس کی جنت کی طرف بلانا تھا۔ اس لیے حکم ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار کے الزامات کی پرواہ کیے بغیر دعوت کا کام جاری رکھیں۔

مکہ کی تیرہ سالہ نبوت کی زندگی میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار کو شب وروز سمجھا تے رہے کہ آؤ اس دعوت کو قبول کرو اور جنت کے وارث بن جاؤ گے۔ لیکن بدنصیبوں کا حال یہ تھا کہ وہ آپ کی دعوت قبول کرنے کی بجائے آپ کو کاہن اور دیوانہ کہتے تھے۔ کبھی آپ کو لوگوں کے سامنے شاعر کہتے اور اپنے ساتھیوں کو دلاسہ دیتے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں اپنے نظریات پر قائم رہیے ! یہ شخص عنقریب حوادث زمانہ کا شکار ہو کر ختم ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس صورت حال میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطمینان دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ کو ان کی یا وہ گوئی کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور دیوانے نہیں ہیں۔ پاگل تو وہ ہیں جو بیک وقت متضاد باتیں کررہے ہیں۔ ان کے پاگل پن کی دلیل یہ ہے کہ ایک طرف آپ کو کاہن کہتے ہیں اور دوسری طرف آپ کو مجنون کہتے ہیں۔ حالانکہ مجنون اور کاہن کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ مجنون شخص (UBNORMAL) حواس باختہ ہوتا ہے۔ اسے خبر نہیں ہوتی کہ وہ اپنے منہ سے کیا کہہ رہا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے لباس کا بھی خیال نہیں رکھ سکتا۔ مجنون کے مقابلے میں کاہن شخص اپنے فن میں ماہر اور چالاک ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو پھنسانے کے لیے ایسے الفاظ اور اندازاختیار کرتا ہے کہ عقل مند اور جہاندیدہ لوگ بھی اس کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ مجنون کو اپنے تن کی ہوش نہیں ہوتی۔ کاہن باتوں باتوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے۔ جہاں تک شاعر کا معاملہ ہے۔ شاعر کے کلام میں نہ صرف مبالغہ پایا جاتا ہے بلکہ اس کے کلام میں تضاد بیانی بھی ہوا کرتی ہے۔ شاعروں کی غالب ترین اکثریت بے عمل ہوتی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوری دنیا کے لیے اسوہ حسنہ بنائے گئے ہیں اور نبوت کے اعلیٰ مقام پر فائزہونے سے پہلے بھی آپ اعلیٰ کردار اور اخلاق کے پیکر تھے۔ اکثر شاعر عاشق مزاج ہوتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زندگی بھر کسی غیرمحرم عورت کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ شاعر کا کلام زیادہ عرصہ تک باقی نہیں رہتا۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کلام پیش کررہے تھے اس کی رہتی دنیا تک گارنٹی دی گئی ہے۔ شاعراپنا کلام پیش کرکے لوگوں سے مالی یا اخلاقی داد وصول کرتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان باتوں سے مبرّہ اور ارفع تھے۔ آپ نے زندگی بھر اپنے خطاب میں کبھی شعر نہیں پڑھا اور نہ ہی آپ کی شان اور مقام کے لائق تھا۔ (یٰسٓ: 69) یہاں تک اہل مکہ کی اس بات کا تعلق ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام اور کام بہت جلد حوادث زمانہ کا شکار ہوجائے گا۔ اس بات کا انہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان اطہر سے یوں چیلنج دیا گیا ہے کہ تم بھی انتظار کرو میں بھی انتظار کرتاہوں۔ زمانہ گواہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں ہرزہ سرائی کرنے والے مٹ گئے لیکن آپ کا نام اور کام ہر دور میں زندہ رہا اور رہے گا۔ اس لیے فرمایا کہ کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی باتیں سکھاتی ہیں یا حقیقت میں یہ لوگ باغی اور شرارتی ہیں گویا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخالف بے عقل بھی تھے، باغی اور شرارتی بھی۔ بے عقل اور شرارتی لوگ زیادہ مدت تک اپنے کام میں کامیاب نہیں ہوا کرتے۔

(وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ) (الانشراح: 4) " ہم نے آپ کا ذکر بلند کردیا ہے۔"

مسائل

1۔ داعی کو مخالفوں کے الزامات کی پرواہ کیے بغیر دعوت کا کام جاری رکھنا چاہیے۔ 2۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ شاعرتھے اور نہ مجنون تھے۔

3۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کاہن اور مجنون کہنے والے خود پاگل تھے۔ 4۔ بے عقل اور شریر لوگ ہی ناکام ہوا کرتے ہیں۔

5۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام اور کام کو ہمیشہ زندرکھا ہے اور زندہ رکھے گا۔

تفسیر بالقرآن

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ شاعر تھے اور نہ آپ نے کبھی شعر گوئی کی تھی:

1۔ ہم نے آپ کو شعر نہیں سکھلائے اور نہ ہی یہ کام آپ کے لائق ہے۔ (یٰس: 69)

2۔ شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ ہی کرتے ہیں وہ ہر وادی میں گھومتے ہیں اور جو کہتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے۔ (الشعراء: 224 تا 226) 3۔ قرآن مجید کسی شاعر کا کلام نہیں۔ (الحاقہ: 41)

4۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب کے فضل وکرم سے شاعر اور مجنون نہیں ہیں۔ ( القلم: 2)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت