فہم القرآن
ربط کلام: منافق کی ایک اور بری عادت اور اس کے بزدل ہونے کی انتہاء۔
درحقیقت منافق ابن الوقت اور مفاد کا بندہ ہوتا ہے اس لیے کسی اچھے کام پر مال خرچ کرنے کا حوصلہ نہیں پاتا۔ نہ صرف خود بخیل ہوتا ہے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی بخل پر آمادہ کرتا ہے۔ یہی حالت منافقین مدینہ کی تھی۔ وہ اپنے رشتہ دار مخلص مسلمانوں کو جہاد پر مال خرچ کرنے سے روکتے تھے۔ مال کی محبت کی وجہ سے انسان بخل کرتا ہے اور بخیل آدمی دوسروں کی نسبت موت سے زیادہ ڈرتا ہے یہی حال منافقین کا تھا۔ جن کے بارے میں صحابہ (رض) کو فرمایا گیا کہ ان کی طرف دیکھو اور غور کرو کہ جب تم انہیں جہاد کے لیے کہتے ہو تو ان کی آنکھیں پھٹ جاتی ہیں جیسے مرنے والا ایک ہی طرف ٹکٹکی لگائے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ جب جہاد کا خوف جاتا رہتا ہے تو پھر ان کی زبانیں قینچی کی طرح چلتی ہیں اور یہ مال غنیمت لینے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر مطالبہ کرتے ہیں۔