فهرس الكتاب

الصفحة 137 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: گزشتہ سے پیوستہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نبی آخر الزماں جناب محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے لیے خصوصی دعا جس میں واضح ثبوت ہے کہ آخری نبی بنی اسماعیل میں سے مکہ میں ہوگا۔

قرآن مجید کے الفاظ سے ثابت ہورہا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلی دعا اس وقت کی جب انہوں نے اپنی رفیقۂ حیات اور لخت جگر کو بیت اللہ کے قریب ٹھہرایا تھا۔ کچھ دعائیں تعمیر کعبہ کے دوران اور باقی تکمیل کے بعد اللہ کے حضور کی گئیں۔ آخری دعا میں ایک ایسے نبی کی ضرورت کا تذکرہ ہے جو نا صرف اسی قوم سے ہو بلکہ اس کی پیدائش بھی مکہ معظمہ میں ہونے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس دعا میں نبوت کی غرض و غایت اور اس کے چار بنیادی فرائض کا ذکر ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری دعاؤں کے ساتھ اس دعا کو بھی شرف قبولیت بخشتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نبی آخر الزماں کی بشارت سے نوازا۔

(قَدْ أُسْتُجِیْبَ لَکَ وَہُوَ کَاءِنٌ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ) [ تفسیر ابن کثیر ]

" کہ تیری دعا مقبول ہے اور وہ نبی آخر زمانہ میں ہوگا۔"

(عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ(رض) قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَا کَانَ أَوَّلُ اَمْرِکَ قَالَ دَعْوَۃُ أَبِیْ إِبْرَاہِیْمَ وَبُشْرٰی عِیْسٰی وَرَأَتْ أُمِّیْ أَنَّہٗ یَخْرُجُ مِنْھَا نُوْرٌ أَضَاءَ تْ مِنْھَا قُصُوْرُ الشَّامِ)

[ مسند احمد: کتاب باقی مسند الانصار، باب حدیث أبی امامۃ الباہلی الصدی بن عجلان]

" حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ آپ کی نبوت کی ابتدا کس چیز سے ہوئی؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: میرے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا' عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت اور میری ماں نے دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محل روشن ہوگئے۔"

مسائل

1۔ کتاب اللہ کی تبلیغ، تعلیم، لوگوں کو دانش سکھلانا اور تربیت کرنا نبوت کے بنیادی کام ہیں۔

2۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت ہوتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت