فهرس الكتاب

الصفحة 4563 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: اہل مکہ کے پراپیگنڈہ کے جواب میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ایک اور اعلان۔

اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان سے یہ بھی فرمائیں کہ میں کوئی نیا رسول نہیں اور نہ ہی مجھے یہ علم ہے کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ میں تو صرف اس بات کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور میں کھلے الفاظ میں برے لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانے والا ہوں۔ اہل مکہ ایک طرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھوٹا قرار دیتے اور آپ پر مختلف قسم کے الزام لگاتے تھے لیکن دوسری طرف آپ سے مطالبات کرتے کہ اگر آپ حقیقتاً اللہ کے رسول ہیں تو پھر آپ کے پاس کم از کم یہ چیزیں ہونا ضروری ہیں۔ ان کے مطالبات کا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ ان کے مطالبات پورے نہیں کرتیتو ہم لوگوں کے سامنے کہیں گے کہ یہ شخص نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے اور اس میں کوئی خاص بات نہیں یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انسانی حاجات کے حوالے سے ایک انسان تھے لیکن اپنے مقام، اوصاف اور دعوت کے حوالے سے بے مثال انسان اور رسول تھے۔ بلکہ تمام رسولوں کے سردار تھے۔ اس لیے آپ کی زبان اطہر سے اس موقع پردو باتیں کہلوائیں گئیں کہ آپ اعلان فرمائیں کہ میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں بلکہ اس طرح ہی اللہ کا رسول ہوں جس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے حضرت نوح، ابراہیم اور دیگر انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا۔ پہلے انبیاء بھی رسول ہونے کے ساتھ انسان تھے اور میں بھی اللہ کا رسول ہونے کے ساتھ ایک انسان ہوں۔ نہ پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو اللہ کی خدائی میں کوئی اختیار حاصل تھا اور نہ ہی مجھے اس کی خدائی میں کسی قسم کا کوئی اختیار ملا ہے۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے اور تمہارے ساتھ کیا کچھ ہونے والا ہے۔ میرا کام " اللہ" کے پیغامات کو لوگوں تک پہچانا اور انہیں کھلے الفاظ میں انتباہ کرنا ہے۔

اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ اعلان کروایا گیا ہے کہ آپ کہیں کہ میں کوئی انوکھا یعنی نیا رسول نہیں ہوں مجھ سے پہلے کئی رسول آئے اور وہ لوگوں کو " اللہ" کے احکام پہنچاتے رہے میں بھی تمہیں وحی کے مطابق تمہارے برے اعمال کے انجام سے ڈراتاہوں لہٰذا وقت ہے سمجھ جاؤ ورنہ ایک دن آئے گا کہ تمہیں اپنے اعمال کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

(وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ) (سبا: 28)

" اور اے نبی ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔"

مسائل

1۔ نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے رسولوں کی طرح ایک رسول تھے۔

2۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی نہیں جانتے تھے کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے اور آپ کے مخالفوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔

3۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) " اللہ" کی وحی کے پابند تھے۔ 4۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو کھلے الفاظ میں انتباہ کرنے والے تھے۔

تفسیر بالقرآن

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غیب نہیں جانتے تھے:

1۔ " اللہ" ہی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (الانعام: 59)

2۔ آپ فرما دیں کہ زمین اور آسمانوں کے غیب " اللہ" کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (النمل: 65)

3۔ نہ ہی میں غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ (ھود: 31)

4۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اعلان اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت ساری بھلائیاں اکٹھی کرلیتا۔ (الاعراف: 188)

5۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں آپ اس وقت موجود نہ تھے۔ (یوسف: 12)

6۔ میں نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں۔ (الانعام: 50)

7۔ فرما دیجیے غیب اللہ کے لیے ہے تم انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ (یونس: 20)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت