فهرس الكتاب

الصفحة 2008 من 6343

فہم القرآن

دنیوی مفاد اور باہمی اختلاف کی و جہ سے عہدتوڑنا اور قسم کی بے حرمتی کرنا گمراہ لوگوں کا کام ہے۔ لوگ دنیوی مفاد اور باہمی اختلاف میں آکر اللہ کی نازل کردہ ہدایت کو بھول جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو انتباہ کرنے اور ہدایت یافتہ لوگوں کو تسلی دینے کے لیے فرمایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت میں سب کو ہدایت دینا لازم ہوتا۔ تو اللہ تعالیٰ بااختیار اور طاقتور ہے کہ تمام انسانوں کو ہدایت یافتہ بنا دیتا اور پوری دنیا کے انسان بہترین کردار کے حامل اور ایک ہی امت قرار پاتے۔ لیکن " اللہ" نے ہدایت اور گمراہی کے اختیار کرنے میں انسان کو کھلا چھوڑ دیا ہے۔ جو لوگ ہدایت واضح ہونے کے باوجود گمراہی اختیار کریں گے اللہ تعالیٰ ضرور ان سے پوچھ گچھ کرے گا۔

یہ بات کئی مرتبہ بیان کی جا چکی ہے کیونکہ ہدایت اور گمراہی بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ان کی نسبت اپنی طرف کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ جسے چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے گمراہ کرے۔

ہدایت کی طلب اور اس پر استقامت کی دعا کرنا چاہیے:

(عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ(رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اَنَّہٗ کَانَ ےَقُوْلُ (اَللّٰھُمَّ اِنِّیْْٓ اَسْاَلُکَ الْھُدٰی وَالتُّقٰی وَالْعَفَافَ وَالْغِنٰی) [ رواہ مسلم: باب التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ یَعْمَل]

" حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ " اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت' تقویٰ' پاکیزگی اور استغناء کا طلب گار ہوں۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت