فهرس الكتاب

الصفحة 6200 من 6343

سورۃ العلق کا تعارف

اس سورت کا نام العلق اس کی دوسری آیت میں موجود ہے اس کی انیس آیات ہیں جو ایک رکوع پر مشتمل ہیں۔ اس سورت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس سے آپ کی نبوت کا آغاز ہوا اور اسی سے قرآن مجید کی ابتدا ہوئی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی ابتدائی آیات پڑھنے کا حکم ہوا۔ اس میں انسان کو اس کی ابتداء بتلا کر آگاہ کیا ہے کہ انسان اس وقت اپنے رب کو فراموش کردیتا ہے جب یہ اپنے آپ کو بے نیاز اور بڑا سمجھتا ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے بالآخر وہ ذلت اور رسوائی کے گھاٹ اتر جاتا ہے۔ ذلّت اور رسوائی سے وہی شخص بچ پائے گا جو اپنے رب کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے سامنے جھکے گا اور اس کی قربت کا متلاشی رہے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت