فهرس الكتاب

الصفحة 2886 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کفار کے مزید اعتراضات

رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کفار یہ بھی ہرزاسرائی کرتے کہ یہ تو مالی اعتبار سے غریب آدمی ہے اگر واقعی یہ اللہ کا منتخب اور پسندیدہ نبی ہوتا تو اس کے پاس مال ودولت کی فراوانی ہونا چاہیے تھی۔ نقدی ناسہی کم از کم اس کے پاس کوئی ایسا باغ ہوتا جس سے خود کھاتا اور اپنے بال بچوں کو کھلاتا۔ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی غربت کا بہانہ بنا کر وہ لوگ آپ کی رسالت کا انکار کرتے تھے۔ قرآن مجید نے اس سوال کا جواب دینا اس لیے مناسب نہیں سمجھا کیونکہ دولت انسان کے شرف کا معیار نہیں ہے پھر کفار مسلمانوں کو یہ کہہ کر پھسلانے کی کوشش کرتے کہ یہ ایسا شخص ہے جس کو جادو ہوچکا ہے۔ جس بناء پر ایسی باتیں کرتا ہے جس کو عقل تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ کفار کی ان باتوں کا قرآن مجید نے متعدد مقامات پر جواب دیا ہے اس لیے یہاں ان کا یہی جواب مناسب سمجھا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غور فرمائیں کہ یہ لوگ آپ سے کس قسم کی توقعات اور آپ کے بارے میں کیسی باتیں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ ایمان لانے کے لیے مخلص ہیں۔ بلکہ ان کا مقصد ہے کہ لوگوں کو آپ سے دور کردیں۔ جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ خود گمراہ ہوچکے ہیں۔ اب ہدایت کی طرف آنے کی ان میں استعداد ختم ہوچکی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت