فهرس الكتاب

الصفحة 945 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: مشرکین مکہ من گھڑت حلال و حرام کی فہرست کو اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتے تھے جس کی تردید کرنے کے بعد اب وہ فہرست پیش کی جارہی ہے جس کو حقیقتًا اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اس میں اعتقادی، اخلاقی، اور معاشی اصول بیان کیے گئے ہیں۔

شرک کے پیشواؤں اور یہودیوں کے رہنماؤں نے اپنی طرف سے حلال و حرام کے قواعد بنا کر لوگوں کو یہ تاثر دیا ہوا تھا۔ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرام کی گئی ہیں۔ پہلی آیات میں ان کے جھوٹ کی قلعی کھول کر اس فہرست کو عقل و نقل کے خلاف ثابت کیا ہے پھر اس پر ان سے گواہی طلب کی گئی جب وہ ان چیزوں کی حرمت و حلت کے بارے میں گواہی دینے سے انکاری اور ان کے جواز کی دلیل دینے میں ناکام ہوئے تو آپ کو حکم ہوا کہ انھیں بلائیں اور ارشاد فرمائیں کہ وہ چیزیں حرام نہیں جنھیں تم حرام کہتے ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں میرے دین اور پہلی شریعتوں میں حرام قرار دی ہیں۔

1۔ شرک: اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں غیروں کو شریک سمجھنا اور شرک کرنا ہے۔

شرک کے بارے میں قرآن مجید نے فرمایا ہے اس کی کوئی دلیل نہیں اتاری گئی۔ اس لیے اسے ظلم عظیم قرار دیا گیا جو شخص شرک کے حق میں دلیل دیتا ہے گویا کہ وہ خاکم بدہن، اللہ تعالیٰ کو جھوٹا قرار دے کر اس کی ذات اور صفات میں شریک ثابت کرنے کی گھٹیا ترین کوشش کرتا ہے۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) نے شرک کی تردید کے لیے اپنی زندگیاں صرف کردیں۔ لیکن اس کے باوجود مشرک اس کے جواز کی دلیلیں پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے شدید ترین الفاظ میں اسے ظلم اور ناجائز ثابت کر کے ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے۔

(عَنْ أَنَسٍ(رض) قَالَ سُءِلَ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَنِ الْکَبَاءِرِ قَالَ الْإِشْرَاک باللّٰہِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَشَہَادَۃُ الزُّورِ) [ رواہ البخاری: کتاب الشہادات، باب ماقیل فی شہادۃ الزور]

" حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استفسار کیا گیا کہ گناہ کبیرہ کون سے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا، بے گناہ کو قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔"

2۔ والدین کی نافرمانی: قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کا اثبات اور شرک کی نفی کرتے ہوئے والدین کے احترام و مقام اور ان کے ساتھ احسان کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ہے۔ ہر مرتبہ والدین کی اطاعت کا حکم دے کر لفظ احسان استعمال فرمایا ہے۔ حدیث میں احسان کا لفظ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بارے میں استعمال ہوا ہے کہ عبادت گزار کے ذہن میں یہ تصور پیدا ہو جیسا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو براہ راست دیکھ رہا ہے۔ اگر احسان کا یہ درجہ حاصل نہیں ہوتا تو کم ازکم یہ تو ضرور ہونا چاہیے کہ وہ یہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ (مسلم: باب بیان الایمان والاسلام والاحسان) " احسان" کا دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ کوئی نیکی نہ بھی کرے پھر بھی اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ تمام شریعتوں میں اخلاق کے اس درجہ کو احسان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں والدین کے بارے میں یہ لفظ 5 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ جس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ اولاد کو والدین کی کمزور یوں پر نظر رکھنے کے بجائے ان کے مرتبہ و مقام اور احسانات کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقام و مرتبہ کے ساتھ والدین کے مقام کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ والدین کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بعد انسان کی تخلیق اور پرورش کا واحد ذریعہ قرار دیا ہے اور اسی تصور کو تازہ کرنے اور یاد رکھنے کے لیے یہ دعا کرنے کا حکم دیا۔

(عن عَبْدِ اللّٰہِ(رض) قَالَ سَأَلْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ قَال الصَّلَاۃُ عَلٰی وَقْتِہَا قَالَ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ قَالَ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ الْجِہَادُ فِی سَبِیل اللّٰہِ قَالَ حَدَّثَنِی بِہِنَّ وَلَوْ اسْتَزَدْتُہُ لَزَادَنِی)

[ رواہ البخاری: کتاب الأدب، باب قول اللہ تعالیٰ ووصینا الانسان بوالدین احسانا]

" حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استفسار کیا کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے پوچھا پھر کون سا ہے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ میں نے پوچھا پھر کون سا عمل ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں یہ باتیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتائیں اگر میں مزید پوچھتا تو آپ مجھے اور بھی بتاتے۔"

3۔ قتل اولاد: سورۃ الانعام کی آیت 137 کے تفسیر کرتے ہوئے عرض کیا گیا ہے کہ ہمیشہ سے دنیا میں قتل اولاد چار صورتوں میں سے کوئی ایک صورت رہی ہے۔

1۔ رزق کی تنگی کی وجہ سے اولاد قتل کرنا۔

2۔ غیر اللہ کے نام پر بچوں کو قتل کرنا۔

3۔ رشتۂ داماد کی عار سے بچنے کے لیے بیٹیوں کو قتل کرنا۔

4۔ جنگ و جدال میں بچیوں کی گرفتاری کے خوف سے قتل کرنا۔

قتل اولاد کے جرم کے بارے میں سورۃ الانعام آیت 137 کی تشریح ملاحظہ فرمائیں۔

" زمانۂ جاہلیت کا یہ فعل قبیح آج کل ضبط ولادت یا خاندانی منصوبہ بندی کے نام سے پوری دنیا میں زور و شور سے جاری ہے اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے۔"

کھلی اور پوشیدہ بے حیائی سے اجتناب کا حکم:

دین اسلام اپنے ماننے والے کو صرف بے حیائی کرنے سے ہی نہیں روکتا بلکہ دین ایسے ذرائع اور مقامات کے قریب جانے سے بھی منع کرتا ہے جس سے اس کی آنکھوں میں بے حیائی، دماغ میں بری سوچ اور اس کا وجود برائی کی طرف مائل ہوجائے۔ اس کے لیے سورۃ بنی اسرائیل آیت 32 میں فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔ یہ بے حیائی کے ساتھ بدترین راستہ ہے۔ سورۃ الانعام، آیت 120 میں حکم دیا گیا کہ گناہ کھلا ہو یا پوشیدہ اسے چھوڑ دینا چاہیے۔ سورۃ النحل، آیت: 90 میں کھلی بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کیا گیا ہے۔

یہاں بھی یہی حکم ہوا کہ بے حیائی کھلی ہو یا پوشیدہ اس کے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ کیونکہ جو شخص بے حیائی کی طرف توجہ کرتا ہے اس کے بارے میں خطرہ ہے کہ وہ کسی وقت بھی اس میں ملوث ہوجائے گا۔ اسی خطرے کے پیش نظررسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے:

(عن أبی ہُرَیْرَۃَ(رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ عَلٰی ابْنِ آدَمَ حَظَّہٗ مِنَ الزِّنَا أَدْرَکَ ذٰلِکَ لَا مَحَالَۃَ فَزِنَا الْعَیْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَمَنّٰی وَتَشْتَہِی وَالْفَرْجُ یُصَدِّقُ ذٰلِکَ کُلَّہٗ وَیُکَذِّبُہُ)

[ رواہ البخاری: کتاب الاستئذان، باب زنا الجوارح دون الفرج]

" حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد پر اس کا حصہ زنا کا مقرر کردیا ہے وہ اس سے بچ نہیں سکتا وہ اس کو پالے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا فحش باتیں کرنا ہے۔ انسان کا نفس اس کی خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔"

(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ(رض) قَالَ کَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِیفَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَجَاءَ تْہُ امْرَأَۃٌ مِّنْ خَثْعَمٍ تَسْتَفْتِیہٖ فَجَعَلَ الْفَضْلُ یَنْظُرُ إِلَیْہَا وَتَنْظُرُ إِلَیْہِ فَجَعَلَ رَسُول اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصْرِفُ وَجْہَ الْفَضْلِ إِلَی الشِّقِّ الْآخَر)

[ رواہ ابوداؤد: کتاب المناسک، باب الرجل یحج عن غیرہ]

" حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں فضل بن عباس (رض) نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سواری پر سوار تھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عورت خثعم قبیلہ کی آئی اور کوئی مسئلہ پوچھنے لگی۔ فضل بن عباس اس کی طرف دیکھنے لگے اور عورت اس کی طرف دیکھنے لگی رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فضل بن عباس (رض) کا چہرہ دوسری جانب پھیر دیا۔"

5۔ قتل نفس:

سورۃ المائدۃ، آیت 31 اور 32 میں دنیا میں انسانی قتل کے پہلے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اسی وقت سے بنی اسرائیل پر یہ بات لاگو کردی تھی کہ جس نے کسی شخص کو ناجائز قتل کیا یا زمین میں دنگا فساد اور تخریب کاری کی تو گویا اس نے سب انسانوں کو تہہ تیغ کردیا ہے اور جس نے ایک شخص کی جان بچالی اس نے پوری انسانیت کا تحفظ کیا اسلام میں کسی کو قتل کرنے کی بنیادی طور پر چار صورتیں ہیں۔

1۔ جو شخص دین اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجائے اسے قتل کردیا جائے۔

2۔ قتل کے بدلے قتل۔

3۔ شادی شدہ زانی کو پتھر مار مار کر ختم کیا جائے۔

4۔ خلیفہ، برحق کے ہوتے ہوئے جو شخص اس کی خلافت میں دوسری خلافت قائم کرے یا بغاوت کرے اسے قتل کردیا جائے۔

قیامت کے دن حقوق اللہ کے بارے میں پہلا فیصلہ نماز کے بارے میں اور حقوق العباد کے بارے میں پہلا مقدمہ انسانی قتل کے بارے ہوگا۔

(عَنْ جَرِیرٍ(رض) أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَہٗ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ اسْتَنْصِتْ النَّاسَ فَقَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِی کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ) [ رواہ البخاری: کتاب العلم، باب الانصات للعلماء ]

" حضرت جریر (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا لوگوں کو خاموش کراؤ پھر فرمایا اے لوگو! میرے بعد تم کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم باہم ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کردو۔"

اس آیت میں شرک سے منع کرنا، قتل اولاد سے روکنا، کھلی اور پوشیدہ برائی سے دور رہنا اور ناجائز قتل کرنے سے روکنے کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے شرک سے پوری طرح بچ کر اللہ تعالیٰ کی توحید کا عقیدہ اپنایا جائے اور اولاد کو رزق کی تنگی کی بنا پر قتل کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رزاقی پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کی پرورش اور تربیت کی جائے۔ ہر قسم کی بے حیائی کے قریب جانے کے بجائے عفت و عصمت کی حفاظت کی جائے اور دوسرے کو ناحق قتل کرنے کے بجائے اس کے مال وجان، عزت وآبرو کی حفاظت کی جائے اور والدین کی نافرمانی کی بجائے ان کے ساتھ حسن سلوک برتا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دانشمندوں کے لیے وصیت ہے۔

مسائل

1۔ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے والا درحقیقت حماقت کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ توحید کا عقیدہ انسان کو اس کے رب کے قریب کرنے، غیرت مند بنانے کے ساتھ اس کے شرف میں اضافہ کرتا ہے۔

2۔ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے میں انسان کا اپنا فائدہ اور گھر میں محبت و الفت کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ والدین کی دعائیں ملتی ہے۔

3۔ انسان اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق سے فائدہ اٹھائے اور ازدواجی زندگی سے لطف اندوز ہو مگر اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی اولاد کو قتل کر دے عقلمندی کے بجائے پرلے درجے کی حماقت ہے۔

4۔ کسی کو ناجائزقتل کرنا انسان دشمنی اور درندگی ہے جس کی عقلمند شخص سے توقع نہیں کی جا سکتی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت