فهرس الكتاب

الصفحة 3614 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: جس طرح مومنوں کو حکم ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے ہوئے اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ اسی طرح سرور دوعالم کے لیے بھی ضروری ہے کہ آپ بھی اپنی بیویوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔ تاہم آپ کو اپنی بیویوں کے بارے میں کچھ رعایت دی گئی ہے تاکہ فریضہ نبوت کی ادائیگی میں گھریلو حالات رکاوٹ نہ بن سکیں۔

1 مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر اس آیت میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کو مخاطب کرتے ہوئے ازواجی مسائل ذکر کیے گئے ہیں۔ جس میں ازواجی زندگی میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امتیازات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق مہر کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے اس لیے پہلے وضاحت فرمادی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے وہ عورتیں بھی حلال ہیں جن کا آپ حق مہرادا کردیں اور آپ کے لیے مال غنیمت میں آنے والی لونڈیاں بھی حلال ہیں۔

حضرت زینب (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی زاد بہن تھیں جن کو حضرت زید (رض) نے طلاق دی۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وحی آنے پر ان کے ساتھ نکاح کیا لیکن رسومات کے پجاریوں نے اسے پراپیگنڈہ کا ذریعہ بنا کر آپ کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔ حالانکہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت زینب (رض) کو اپنے حرم میں داخل فرمایا تھا جس کا ذکر اسی سورۃ کی آیت 37 میں ہوچکا ہے اب پھر ضروری سمجھا گیا کہ ایک دفعہ پھر وضاحت کردی جائے جس طرح دوسرے مردوں کے لیے یہ رشتے حلال ہیں اسی طرح نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے بھی یہ رشتے حلال ہیں۔

چنانچہ ارشاد ہوا کہ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے لیے آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں حلال ہیں اور وہ مومن عورت بھی آپ کے لیے حلال ہے جو اپنے آپ کو آپ کے لیے وقف کرتی ہے بشرطیکہ آپ اس سے نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں یہ آپ کے لیے خصوصی رعایت ہے کہ آپ حق مہر کے بغیر کسی مومنہ سے نکاح کرسکتے ہیں۔ البتہ کوئی مومن حق مہر مقرر کیے بغیر نکاح نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ مومنوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں کیا چیز فرض قرار دی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق مہر سے اس لیے مستثنیٰ قراردیا گیا ہے تاکہ آپ کو کسی قسم کا مالی بوجھ نہ اٹھانا پڑے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق مہر کی رخصت کے باوجود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی تمام بیویوں کا حسب استطاعت حق مہر ادا فرمایا۔ آیت مبارکہ میں حلال رشتوں کی وضاحت کرتے ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ شرط عائد فرمائی گئی کہ بے شک یہ عورتیں آپ کے لیے حلال قرار دی گئی ہیں لیکن آپ ان عورتوں کے ساتھ نکاح کرسکتے ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کی ہے۔ بے شک انہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو یا آپ کے بعد۔

اس آیت میں یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ چار بیویوں کی پابندی صرف مومنوں کے لیے ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس تعداد سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس کی یہ وجہ نہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جسمانی اور نفسیاتی طور پر چار سے زیادہ بیویوں کی ضرورت تھی۔ سبب یہ ہے کہ آپ کے ذمے جو مشن لگایا گیا تھا اس کا تقاضا تھا کہ آپ کے خاندانی تعلقات وسیع تر ہوں تاکہ دین کی دعوت تھوڑے عرصے میں زیادہ سے زیادہ پھیل سکے چناچہ یہی کچھ ہوا کہ آپ کے ازواجی رشتوں کی بنا پر عرب کے بڑے بڑے قبائل میں دین بڑی سرعت سے پھیل گیا۔

مسائل

1۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حق مہر کی پابندی نہ تھی۔ 2۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چار بیویوں کی پابندی سے مستثنیٰ تھے۔

3۔ اس فرمان کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مسلمان عورت سے نکاح نہیں کرسکتے تھے جس نے مدینہ طیّبہ کی طرف ہجرت نہ کی ہو۔ عام مسلمانوں کے لیے یہ پابندی نہ تھی۔

4۔ مخصوص حالات میں شریعت کی پابندیوں کے ساتھ لونڈی رکھنا جائز ہے۔

تفسیر بالقرآن

قرآن مجید میں بیویوں کے حقوق:

1۔ عورتوں کو ان کا حق مہرخوشی سے ادا کیا جائے۔ (النساء: 4) 2۔ بیویوں پر بے جا سختی نہ کی جائے۔ (النساء: 19)

3۔ بیویوں کو تکلیف نہ دی جائے۔ (الطلاق: 6) 4۔ حق زوجیت ادا کیا جائے۔ (النساء: 3)

5۔ حق مہر واپس نہیں لینا چاہیے۔ (النساء: 20) 6۔ بچے کی وجہ سے ماں کو تکلیف نہ دی جائے۔ (البقرۃ: 233)

7۔ اگر تمہیں خدشہ ہو کہ تم چار بیویوں کے درمیان عدل نہیں کرسکو گے توایک بیوی یا ایک لونڈی ہی کافی ہے۔ ( النساء: 3)

8۔ اگر ایک سے زیادہ بیویاں نکاح میں ہوں تو سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے۔ (النساء: 129)

9۔ طلاق دینے کے بعد جب مدت پوری ہوجاۓ تو بیوی کو اچھے طریقے سے رخصت کیا جائے یا اچھے انداز سے رکھ لیا جائے۔ (البقرۃ: 231)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت