فهرس الكتاب

الصفحة 4567 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: قرآن مجید جن لوگوں کو خوشخبری سناتا ہے ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے رب پر ایمان لاتے ہیں اور تادم آخر اس پر پکے رہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی تیسری آیت میں اپنی توحید کی یہ دلیل دی ہے کہ جو لوگ " اللہ" کے سوا دوسروں کو مانتے اور پکارتے ہیں۔ اے نبی! ان سے فرمائیں کہ یہ زمینوں اور آسمانوں میں کسی ایسی چیز کی نشاندہی کریں جو ان کے معبودوں نے پیدا کی ہو یا اللہ کی کسی تخلیق میں وہ شریک کار ہوں۔ پھر فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو جوکتاب دی گئی اسی کی ہدایت اور دعوت یہ تھی کہ " اللہ" کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے اور قرآن مجید بھی یہی دعوت دیتا ہے۔ دعوت توحید کا پہلا اور آخری تقاضا یہ ہے کہ جو لوگ اس بات کا اقرار اور اظہار کریں وہ تادم آخر اس پر پکے رہیں ان کے لیے خوشخبری ہے کہ ان کی موت کے وقت سے لے کر 3 میں داخلے تک اور پھر جنت میں داخل ہونے کے بعد ان پر نہ خوف ہوگا اور نہ ہی یہ حزن و ملال سے دوچار ہوں گے۔ یہ لوگ ہمیشہ 3 میں بسیرا کریں گے جو ان کے اعمال کا صلہ ہوگا۔ اسی بات کو دوسرے مقام پر قدرے تفصیل کے ساتھ یوں بیان کیا گیا ہے۔

" جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب " اللہ" ہے اور اس پر ثابت قدم رہے یقیناً ان پر ملائکہ نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ نہ ڈرو، اور نہ غم کرو، بلکہ اس 3 کے بارے میں خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ ہوں گے، وہاں جو چاہو گے تمہیں ملے گا اور جس کی خواہش کرو گے اسے پاؤ گے۔ یہ اس " ب" کی طرف سے مہمان نوازی ہے جو غفور ورحیم ہے۔" (حٰم السجدۃ30 تا 32)

(عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ(رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ کَانَ آخِرُ کَلَامِہِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ) ( رواہ ابوداؤد: کتاب الجنائز، باب فی التلقین، قال الشیخ البانی صحیح)

" حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس کا آخری کلام " لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ" ہو وہ 3 میں داخل ہوگا۔"

(وَعَنْ سُفْےَانَ ابْنِ عَبْدِاللّٰہِ الثَّقَفِیِّ(رض) قَالَ قُلْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قُلْ لِّیْ فِی الْاِسْلَامِ قَوْلًا لَّا اَسْاَلُ عَنْہُ اَحَدًا بَعْدَکَ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ غَےْرَکَ قَالَ قُلْ اٰمَنْتُ باللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ)

(رواہ مسلم: باب جامِعِ أَوْصَافِ الإِسْلاَمِ)

" حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کی مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات ارشاد فرمائیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کسی سے سوال کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے دوسری روایت میں ہے کہ " آپ کے علاوہ" کسی سے پوچھنے کی حاجت نہ رہے۔ فرمایا " اللہ" پر ایمان لانے کے بعد اس پر قائم رہو۔"

مسائل

1۔ جو لوگ اقرار کریں کہ ہمارا رب " اللہ" ہے پھر اس پر استقامت اختیار کریں انہیں کوئی خوف و خطر اور حزن و ملال نہیں ہوگا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی توحید پر قائم رہنے والوں کا صلہ 3 ہے۔

3۔ اللہ کی توحید کا اقرار کرنے اور تقاضے پورے کرنے والوں کو ہمیشہ ہمیش 3 میں بسایا جائے گا۔

تفسیر بالقرآن

توحید کی اہمیت اور اس کے فائدے:

1۔ توحید سب سے بڑی سچائی ہے۔ (المائدۃ: 119، النساء: 87، 122)

2۔ توحید سب سے بڑی گواہی ہے۔ (آل عمران: 18)

3۔ توحید عدل ہے۔ (آل عمران: 18) 4۔ توحید دانائی ہے۔ (بنی اسرائیل: 39)

5۔ توحید سب سے بڑی نیکی ہے۔ (البقرۃ: 177) 6۔ توحید فرمانبرداری کا نام ہے۔ (النحل: 48، الرعد: 15)

7۔ اللہ کی توحید پر استقامت اختیار کرنے والوں پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور وہ انہیں خوشخبری دیتے ہوئے کہتے ہیں غم وحزن میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں تمہارے لیے 3 ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ ( حٰم السجدۃ: 30)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت