فهرس الكتاب

الصفحة 2157 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: سورۃ بنی اسرائیل کا اختتام اس حکم کے ساتھ ہوا ہے۔ اے پیغمبر ! اللہ کی حمد وثناء کیجیے۔ جس کا کسی حوالے سے بھی کوئی شریک نہیں۔ وہ اپنی ذات، صفات اور شان کے اعتبار سے ہر کسی سے بلند وبالا ہے۔ سورۃ الکھف کی ابتداء اللہ کی حمد سے ہورہی ہے جس نے اپنے بندے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایسی کتاب نازل فرمائی جس میں کوئی نقص اور جھول نہیں ہے۔

تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن مجید نازل فرمایا۔ جس میں کسی قسم کی جھول، تضاد اور پچیدگی نہیں پائی جاتی۔ جس کے فرمان واضح، ٹھوس، سیدھے سادھے، صراط مستقیم کے ترجمان اور ہر قسم کے الجھاؤ، عیب اور نقصان سے پاک ہیں۔ قرآن مجید اس لیے نازل کیا گیا تاکہ لوگوں کو عذاب شدید سے ڈرایا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ اس میں صالح کردار مومنوں کے لیے بہترین اجر کی خوشخبری دی گئی ہے۔ جن کا صلہ جنت ہے جس میں صالح اعمال کرنے والے لوگوں کو داخل کیا جائے گا وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ یہاں قرآن مجید کے تین اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے۔

1۔ قرآن مجید میں برے اعمال کی نشاندہی اور اس کے انجام سے ڈرایا گیا ہے۔

2۔ قرآن مجید صالح کردار ایمان داروں کو جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کی خوشخبری دیتا ہے۔

3۔ قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے۔ کہ اس کے احکام اور مضامین میں کسی قسم کی پیچیدگی، الجھاؤ ،

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت