فهرس الكتاب

الصفحة 3527 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: جو " اللہ" رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا اور نکالتا ہے کیا وہ انسان کو مٹی سے دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا؟

اللہ تعالیٰ انسان کو باربار اپنی قدرتوں کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اے انسان دیکھ اور غور کر کہ جس زمین پر تیرا بسیرا اور جس آسمان کے نیچے تیرا ڈیرہ ہے۔ جس لیل ونہار پر تیری زندگی کا انحصارہے اور جس شمس وقمر کے آنے جانے پر تیری زندگی کے رات دن بنتے ہیں۔ غور کر کہ کبھی رات کا کچھ حصہ دن میں ضم ہوجاتا ہے اور کبھی دن رات میں کئی کئی گھنٹے گم ہوجاتی ہے۔ سورج کو دیکھ کہاں سے نکلتا ہے اور کہاں غروب ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ اب چاند پر توجہ کر کہ وہ پندرہ راتیں کہاں غائب رہتا ہے جب نکلتا ہے تو کس قدر باریک ہوتا ہے۔ جب غائب ہونے کو آتا ہے تو چودھویں رات کو کس طرح تاباں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوقات مقرر کر رکھے ہیں یہ اسی طرح اپنی ڈیوٹی دیتے رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گا جو دن سے رات اور رات سے دن نکالتا ہے وہی " اللہ" تمہارا حقیقی خالق اور معبود ہے اور وہی تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا اور اپنے حضور پیش کرے گا۔ بس ہر حال میں اسی کو پکارو، اسی کی بندگی کرو اور اس کی غلامی میں آجاؤ۔ اس کے سوا جن کو تم پکارتے اور جن کے سامنے نذرونیاز پیش کرتے اور جن کے حضور سجدے کرتے ہو وہ سب کے سب باطل ہیں اور معبود نہیں ہیں۔ اللہ تمہارے شرکیہ تصورّات اور اعمال سے بلندوبالا ہے ہاں یہ بھی یاد رکھو جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس کی اچھی طرح خبر رکھنے والا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت