فهرس الكتاب

الصفحة 2039 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: یہودی بڑی شد و مد کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مذہب اور نسب کے اعتبار سے ابراہیم (علیہ السلام) کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ قرآن مجید دو ٹوک انداز میں اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ یہود ونصاریٰ کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوا:

" اے اہل کتاب تم ابراہیم کے بارے میں کس بنیاد پر جھگڑا کرتے ہو۔ حالانکہ تورات اور انجیل ابراہیم کے بعد نازل کی گئی ہیں کیا تم پھر بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں ؟ تم وہ لوگ ہو جو ایسی باتوں کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو جن کا تمہیں کچھ علم ہے مگر ایسی باتوں میں کیوں جھگڑتے ہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں۔ حضرت ابراہیم یہودی تھے اور نہ ہی عیسائی وہ تو موحّد مسلمان تھے۔ ان کا مشرکوں کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔ حضرت ابراہیم کے قریب تر وہ لوگ تھے جنہوں نے ان کی اتباع کی ان کے بعد سرور دو عالم اور آپ کے متبعین ابراہیم کے زیادہ قریب ہیں اور اللہ مومنوں کا حامی وناصر ہے۔" (آل عمران: 65 تا 68)

اسی بات کی یہاں دوسرے انداز میں وضاحت کی گئی ہے۔ ہفتہ کا دن ان لوگوں پر لازم کیا گیا جنہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا تھا۔ یقیناً آپ کا رب قیامت کے دن ضرور فیصلہ فرمائے گا، جس میں یہ لوگ اختلاف کرتے ہیں۔ یہود یوں کا دعویٰ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین میں جمعہ کے بجائے ہفتہ کا دن عبادت کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ اس دعویٰ کی بنیاد پر یہودی نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر الزام لگاتے تھے کہ انہوں نے ہماری مخالفت کی بنیاد پر ہفتہ کا دن چھوڑ کر جمعہ کا دن مقرر کرلیا ہے۔ جس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ہفتہ کا دن یہودیوں نے اپنی مرضی سے اپنے آپ پر فرض کرلیا ہے اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ ملت ابراہیم میں جمعہ کا دن ہی عبادت کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔ اس کی وضاحت سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح فرمائی ہے۔

(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ(رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خَےْرُ ےَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَےْہِ الشَّمْسُ ےَوْمُ الْجُمُعَۃِ فِےْہِ خُلِقَ اٰدَمُ وَفِےْہِ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ وَفِےْہِ اُخْرِجَ مِنْھَا وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اِلَّا فِیْ ےَوْمِ الْجُمُعَۃِ)

[ رواہ مسلم: باب فضل یوم الجمعۃ]

" حضرت ابوہریرہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان نقل کرتے ہیں دنوں میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے اس دن آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا اسی دن ان کو جنت میں داخلہ ملا اور جمعہ کو ہی ان کا اخراج ہوا اور اسی دن قیامت برپا ہوگی۔"

(عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ(رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لاَ یَغْتَسِلُ رَجُلٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَیَتَطَہَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُہْرٍ، وَیَدَّہِنُ مِنْ دُہْنِہِ، أَوْ یَمَسُّ مِنْ طیبِ بَیْتِہِ ثُمَّ یَخْرُجُ، فَلاَ یُفَرِّقُ بَیْنَ اثْنَیْنِ، ثُمَّ یُصَلِّی مَا کُتِبَ لَہُ، ثُمَّ یُنْصِتُ إِذَا تَکَلَّمَ الإِمَامُ، إِلاَّ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الأُخْرَی ) [ رواہ البخاری: باب الدُّہْنِ لِلْجُمُعَۃِ ]

" حضرت سلمان فارسی (رض) بیان کرتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو آدمی جمعہ کے دن غسل کرتا ہے اور استطاعت کے مطابق پاکیزگی حاصل کرتا ہے، بالوں کو تیل لگاتا ہے اور خوشبو لگاتا ہے، پھر وہ مسجد کی طرف نکلتا ہے اور لوگوں کے درمیان گھس کر نہیں بیٹھتا پھر جس قدر ممکن ہو وہ نماز پڑھتا ہے پھر خاموشی سے امام کا خطبہ سنتا تو اس کے آٹھ دنوں کے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔"

مسائل

1۔ یہودیوں پر ہفتہ کے دن کا احترام لازم کیا گیا تھا۔ 2۔ یہودیوں نے اس کے احترام کا خیال نہ کیا۔

3۔ اللہ قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔

تفسیر بالقرآن

ہفتہ کے دن کا احترام نہ کرنے کی وجہ سے یہودیوں پر پھٹکار:

1۔ یہودیوں پر ہفتہ کے دن کا احترام لازم کیا گیا۔ (النحل: 124) 2۔ ہم نے انہیں کہا کہ ہفتہ کے دن زیادتی نہ کرو۔ (النساء: 154)

3۔ یہودی ہفتہ کے دن کا احترام نہیں کیا کرتے تھے۔ ( الاعراف: 163)

4۔ یہودیوں نے ہفتہ کے دن زیادتی کی تو انہیں بندر بنا دیا گیا۔ (البقرۃ: 65)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت