فهرس الكتاب

الصفحة 3584 من 6343

حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں لائے۔ اللہ تعالیٰ پر کوئی مشکل نہیں کہ ان کے اعمال ضائع کر دے۔ منافق اس حد تک بزدل ہوچکے ہیں کہ اپنے گھروں میں جانے کے باوجود خیال کرتے ہیں کہ ابھی تک کفار کے لشکر واپس نہیں گئے اگر کفار کے لشکر واپس آجائیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ وہ مدینہ چھوڑ کر دیہاتوں میں نکل جائیں اور وہاں جا کر تمہارے بارے میں معلومات لیتے رہیں کیونکہ یہ تمہارے ساتھ رہ کر لڑنے کے لیے تیار نہیں " اَشِحَّۃٌ" کی جمع " شیح" ہے جس کا معنٰی بہت زیادہ بخل کرنا اور لوگوں کو خیر کے کاموں سے روکنا ہے۔

مسائل

1۔ منافق بزدل اور بخیل ہوتا ہے۔ 2۔ منافق کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ 3۔ حقیقت میں منافق بے ایمان ہوتا ہے۔

تفسیر بالقرآن

اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں ہے:

1۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں فنا کردے اور نئی مخلوق لے آئے یہ اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ (ابراہیم: 19۔ 20)

2۔ اگر اللہ چاہے تو تم کو فنا کر کے دوسری مخلوق لے آئے یہ اللہ کے لیے مشکل نہ ہے۔ (فاطر: 16۔ 17)

3۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے۔ (انساء: 123)

4۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور تمہارے بعد جسے چاہے لے آئے۔ (الانعام: 133)

5۔ اے ایمان والو ! اگر تم دین سے مرتد ہوجاؤ تو اللہ تعالیٰ تمھاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا۔ (المائدۃ: 54)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت