فهرس الكتاب

الصفحة 3617 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: ازواجی زندگی کے اصول بتلانے کے ساتھ مسلمانوں کو آداب معاشرت سمجھائے جاتے ہیں یہاں دورِجاہلیت کی ایک اور رسم کے خاتمے کا حکم دیا گیا ہے۔

اس فرمان کے نازل ہونے سے پہلے کچھ مسلمان نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں بلا اجازت داخل ہوجاتے اور بن بلائے مہمان بن جایا کرتے تھے۔ حیا کے پیش نظر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں کچھ نہ کہتے۔ اس پر یہ فرمان نازل ہوا کہ اے صاحب ایمان لوگو! نبی کے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کرو اور نہ ہی بن بلائے مہمان بننے کی کوشش کیا کرو۔ جب تمہیں کھانے کی دعوت دی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھانے سے فارغ ہوجاؤ تو اٹھ جایا کرو۔ خواہ مخواہ باتیں کرتے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں بیٹھے رہنے سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے۔ آپ حیا کی وجہ سے تمہیں اٹھنے کے لیے نہیں کہتے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ حق بات بتلانے میں حیا نہیں کرتا۔

جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل خانہ سے کوئی چیز لینا مقصود ہو تو ان سے پردہ میں رہ کر مانگا کرو۔ یہ تمہارے لیے نہایت پاکیزہ طریقہ ہے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل خانہ کے لیے بھی بہتر ہے۔ اے مسلمانو! ایسی ہر حرکت سے اجتناب کرو جس سے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں تمہارے لیے محترم ہیں جن کے ساتھ تمہارا کبھی نکاح نہیں ہوسکتا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ امت کے رشتے کا ذکر کرتے ہوئے اسی سورت کی آیت 6 میں ارشاد ہوا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں تمہاری مائیں ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ ماں کے ساتھ کسی صورت میں بھی بیٹا نکاح نہیں کرسکتا ایسا سوچنا بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔

امّت کے لوگوں کو مزید انتباہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم کوئی بات ظاہر کرو یا چھپائے رکھو۔ اللہ تعالیٰ ہر چیزکو جاننے والا ہے۔ اس آیت کریمہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے مسلمانوں کو معاشرت کے عظیم اور بہترین آداب سے سکھلائے گئے ہیں۔ اگر مسلمان معاشرہ میں ان آداب کا خیال رکھا جائے تو بہت سی اخلاقی بیماریوں کا از خود قلع قمع ہوسکتا ہے۔ اس حکم کے مطابق غیر محرم عورتوں سے ہر سطح پر ہر قسم کا اختلاط ناجائز ہے۔ افسوس اس کے باوجود آج کے نام ونہاد دانشور سکولوں، کالجز، یونیورسٹیوں اور دفاتر میں مرد وزن کا اختلاط جائز قرار دیتے ہیں حالانکہ اس کے مضمرات نے معاشرے کو اخلاقی طور پر تباہ کے رکھ دیا ہے۔

(عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ قَالَ کَانَ مِنَ الأَنْصَارِ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ أَبُو شُعَیْبٍ، وَکَانَ لَہُ غُلاَمٌ لَحَّامٌ فَقَالَ اصْنَعْ لِی طَعَامًا أَدْعُو رَسُول اللَّہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خَامِسَ خَمْسَۃٍ، فَدَعَا رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خَامِسَ خَمْسَۃٍ، فَتَبِعَہُمْ رَجُلٌ فَقَال النَّبِی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّکَ دَعَوْتَنَا خَامِسَ خَمْسَۃٍ وَہَذَا رَجُلٌ قَدْ تَبِعَنَا، فَإِنْ شِءْتَ أَذِنْتَ لَہُ، وَإِنْ شِءْتَ تَرَکْتَہُ قَالَ بَلْ أَذِنْتُ لَہُ ) [ رواہ البخاری: باب الرَّجُلِ یَتَکَلَّفُ الطَّعَامَ لإِخْوَانِہِ]

" ابو مسعود انصاری بیان کرتے ہیں ایک انصاری آدمی جس کا نام ابو شعیب تھا اس کا ایک غلام قصاب تھا۔ ابو شعیب نے اپنے غلام کو کہا میرے لیے کھانا تیار کرو تاکہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور پانچ آدمیوں کو دعوت دوں۔ چنانچہ ابو مسعود (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سمیت پانچ آدمیوں کو دعوت دی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک اور آدمی چل پڑا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو شعیب کو فرمایا کہ آپ نے پانچ آدمیوں کو دعوت پر بلایا ہے لیکن یہ آدمی اپنے طور پر آ گیا ہے اگر تو چاہتا ہے تو اسکو اجازت دے دے اور اگر نہیں چاہتا ہے تو اسے واپس کر دے۔ ابو شعیب نے کہا کہ میں اسے اجازت دیتا ہوں۔"

(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَیْکَ بِغَیْرِ إِذْنٍ، فَخَذَفْتَہُ بِعَصَاۃٍ، فَفَقَأْتَ عَیْنَہُ، لَمْ یَکُنْ عَلَیْکَ جُنَاحٌ ) [ رواہ البخاری: باب مَنْ أَخَذَ حَقَّہُ أَوِ اقْتَصَّ دُون السُّلْطَانِ ]

" حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر کوئی بندہ اجازت طلب کیے بغیر کسی کے گھر میں جھانکے اور گھر والا لاٹھی کے ساتھ اس کی آنکھ پھوڑ دے تو لاٹھی مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں۔"

مسائل

1۔ کسی کے گھر میں بلا اجازت داخل ہونا گناہ ہے۔ 2۔ کسی کے ہاں بن بلائے مہمان بن بیٹھنا جائز نہیں۔

3۔ دعوت کھانے کے بعد خواہ مخواہ میزبان کے گھر بیٹھے رہنا آداب کے منافی ہے۔

4۔ اللہ تعالیٰ حق بیان کرنے سے نہیں شرماتا۔ 5۔ غیر محرم عورتوں سے اختلاط حرام ہے۔

6۔ کسی کے اہل خانہ سے کوئی چیز لینا مطلوب ہو تو پردے میں رہ کر سوال کرنا چاہیے۔

7۔ امہات المومنین کے بارے میں ہرزہ سرائی کرنا اور ان کے بارے میں بد کلامی کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔

8۔ ازواج مطہرات امت کی مائیں تھیں اس لیے ان کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں تھا۔

تفسیر بالقرآن

نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اہل خانہ کا احترام فرض ہے:

1۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دور سے آواز نہ دی جائے۔ (الحجرات: 4) 2۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے اونچی آواز نہ کی جائے۔ (الحجرات: 2 )

3۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آگے قدم نہ اٹھایا جائے۔ (الحجرات: 1) 4۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اتباع کی جائے۔ (محمد: 33)

5۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں بغیر اجازت کے داخل نہیں ہونا چاہیے۔ (الاحزاب: 53)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت