فهرس الكتاب

الصفحة 4010 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: کفار اور مشرک تکبر کی بنیاد پر اللہ کی وحدت اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرتے اور اس کے لیے لیڈر عوام کو روکتے تھے۔

کفار کی اکثریت یہ بات جانتی تھی کہ پہلی امتوں میں جو رسول بھیجے گئے وہ اپنی قوم کے ایک فرد ہی ہوا کرتے تھے۔ یہ حقیقت جاننے کے باوجودکفار پراپیگنڈہ کرتے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ رب تعالیٰ اپنے پیغام اور کام کے لیے کسی انسان کو منتخب کرے اگر اس نے کسی انسان کو ہی رسول بنانا ہوتا تو ایسے شخص کو کیوں منتخب کرتا جو مالی لحاظ سے کنگال اور سماجی اعتبار سے یتیم ہے۔ فی الواقع لوگوں میں ہی کسی کو رسول منتخب کرنا ہوتا تو وہ مکہ کے سرداروں یا طائف کے بڑے لوگوں میں سے کسی کو رسول بناتا۔ اس بنا پر وہ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھوٹا اور جادو گر قرار دیتے تھے۔ جادو گر کہنے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان میں غضب کی تاثیر تھی پھر آپ کی شخصیت اتنی پُر کشش تھی کہ جو آپ کا کلام سنتا وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا اور جس نے آپ کی شخصیت کو نظر بھر کر دیکھا وہ آپ کا گرویدہ ہو کر رہ گیا۔ کیونکہ کفار کے دل میں تکبر تھا جس وجہ سے وہ آپ کے کلام اور شخصیت سے متاثر ہونے کے باوجود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا اقرار کرنے کے لیے تیارنہ تھے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی وحدت کا معاملہ ہے یہ عقیدہ ان کے لیے اس لیے تعجب کا باعث تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم نے ہر مشکل اور ضرورت کے لیے الگ الگ خدا بنا رکھے ہیں اتنے خداؤں کے باوجود ہماری حاجات پوری نہیں ہوتیں اور انفرادی اور اجتماعی مشکلات کا مداوا نظر نہیں آتا تو ایک الٰہ ہماری مشکلات کس طرح حل کرسکتا ہے ؟

یہ عجب عقیدہ ہے جس کی یہ رسول دعوت دیتا ہے۔ اس دعوت کی مخالفت میں انہوں نے یہ بات طے کی کہ ہر قبیلے کا سردار اور اپنے اپنے خاندان میں لوگوں کو سمجھائے کہ لوگو! اپنے اپنے خداؤں اور دیوتاؤں پر پکے رہو ! اگر تم نے کسی قسم کی غفلت اور سستی کا مظاہرہ کیا تو یہ شخص تم پر برتری حاصل کرلے گا۔ یہی اس کا مقصد ہے۔ جہاں تک اس کی دعوت کا تعلق ہے ہم نے کسی مذہب میں یہ بات نہیں سنی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ من گھڑت دعوت اور خود ساختہ عقیدہ ہے۔ مکہ والوں کی یہ بات بھی پہلی دوباتوں کی طرح بے بنیاد تھی۔ کیونکہ مکہ ہی میں ایسے لوگ موجود تھے جو پوری طرح سمجھتے تھے کہ ملت ابراہیم (علیہ السلام) میں ایک الٰہ کی عبادت کے سوا کسی کی عبادت کرنا جائز نہیں۔ اسی بنا پر زید بن عمرو نے کعبۃ اللہ میں بیٹھ کر فی البدیع یہ اشعار کہے تھے۔

أَرَبّا وَاحِدًا أَمْ أَلْفَ رَبّ أَدِینُ إذَا تُقُسّمَتْ الْأُمُورُ

ایک خدا کو مانوں یا ہزاروں کو؟ جب کہ تقدیر کے فیصلے ہوچکے ہیں

عَزَلْتُ اللّاتَ وَالْعُزّی جَمِیعًا کَذَلِکَ یَفْعَلُ الْجَلْدُ الصّبُورُ

میں نے لات اور عزیٰ سب کو چھوڑ دیا ہے۔ سمجھ دار آدمی ایسا ہی کیا کرتے ہیں

وَلَکِنْ أَعْبُدُ الرّحْمَنَ رَبّی لِیَغْفِرَ ذَنْبِی الرّبّ الْغَفُورُ

میں اپنے رب " رحمن" کی بندگی کرتا ہوں تاکہ وہ میرے گناہوں کو معاف فرما دے اور وہ بڑا بخشنہار ہے۔

فَتَقْوَی اللّہِ رَبّکُمْ احْفَظُوہَا مَتَی مَا تَحْفَظُوہَا لَا تَبُورُوا

اللہ کا خوف اختیار کرو تم نے اسے اپنا لیا تو کبھی ناکام نہیں ہو گے [ سیرۃ ابن ہشام: باب شعر زیدحین یستقبل القبلۃ]

نبوت کے انکار کے لیے اہل مکہ مختلف بہانے بنایا کرتے تھے۔ کبھی کہتے کہ نبوت کے منصب جلیلہ کے لیے معاشی اعتبار سے خوشحال، سیاسی لحاظ سے طاقتور اور خاندانی اعتبار سے کسی بڑے قبیلے کا سردار ہونا چاہیے تھا۔ پھر مکہ میں ابو الحکم بن ہشام یعنی ابوجہل اور کبھی طائف کے مختلف سرداروں کے نام لیتے تھے حالانکہ لوگوں کی نظروں میں آپ کے مقابلہ میں کسی دوسرے کا نام جچتاہی نہیں تھا۔ کیونکہ سیرت و صورت کے حوالے سے آپ کا پلہ سب پر بھاری تھا۔ جب اس میں ناکامی کا منہ دیکھتے تو پروپیگنڈہ کرتے کہ روم کے فلاں شخص سے خفیہ پیغام رسانی کے ذریعہ یہ کلام پیش کیا جا رہا ہے۔ قرآن مجید نے پہلے اور دوسرے اعتراض کا یہ جواب دیا کہ نبوت تو سراسر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا انتخاب ہوتا ہے۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ کون سا دل نور الٰہی کا اہل، کونسی زبان اس کے بیان کرنے پر قادر، اور کون سے کندھے اس بار گراں کو اٹھانے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ [ الانعام: 124]

اہل مکہ اپنے دل میں یہ حقیقت تسلیم کرتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واقعی اللہ کا رسول ہے لیکن محض تعصبات کی وجہ سے آپ پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ جس کا اس موقعہ پر یہ جواب دیا گیا ہے کہ دراصل انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا نہیں پایا جب اس کا عذاب نازل ہوگا تو ان کے بل درست ہوجائیں گے۔

مسائل

1۔ کفار تکبر کی بنیاد پر نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھوٹا اور جادوگر کہتے تھے۔

2۔ کفار نے منظم طریقے کے ساتھ دعوت توحید کو روکنے کی کوشش کی مگر سو فیصد ناکام رہے۔

تفسیر بالقرآن

الٰہ صرف ایک ہی ہے:

1۔ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے؟ (النمل: 60)

2۔ اللہ نے زمین کو جائے قرار بنایا اس میں پہاڑ اور دو سمندروں کے درمیان پردہ بنایا کیا اس کے ساتھ اور بھی الٰہ ہے؟ (النمل: 61)

3۔ کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل: 62)

4۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سواکون رہنمائی کرتا ہے کیا کوئی اور بھی اس کے ساتھ الٰہ ہے۔ (النمل: 63)

5۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنا اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا اللہ ہے کیا اس کے سوا کوئی اور الٰہ ہے؟ (النمل: 64)

6۔ آپ فرما دیں سوائے ایک الٰہ کے آسمان وز میں کے غیب کو کوئی نہیں جانتا۔ (النمل: 65)

7۔ کیا کوئی ہے اس الٰہ کے سوا جو رات ختم کرکے دن لائے ؟ (القصص: 71)

8۔ الٰہ ایک ہی ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ (البقرۃ: 163)

9۔ ا لٰہ تمھارا ایک ہی ہے لیکن آخرت کے منکر نہیں مانتے۔ (النحل: 22)

10۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دیں میں تمھاری طرح بشر ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے تمھارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے۔ (الکہف: 110)

11۔ الٰہ تمھارا ایک اللہ ہی ہے۔ (طہ: 98)

12۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمادیں میری طرف وحی کی جاتی ہے تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ (الانبیاء: 108)

13۔ تمھارا صرف ایک ہی الٰہ ہے اسی کے تابع ہوجاؤ۔ (الحج: 24)

14۔ ہمارا الٰہ اور تمھارا الٰہ صرف ایک ہی ہے۔ ہم اسی کے لیے فرمانبردار ہیں۔ (العنکبوت: 46)

15۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے جو میں تلاش کروں۔ (الاعراف: 140)

16۔ اسکے سوا کوئی الٰہ نہیں مگر وہ اکیلا ہی ہے ( المائدۃ: 73)

17۔ اعلان کردیں اللہ ہی ایک الٰہ ہے اور میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ (الانعام: 19)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت