فهرس الكتاب

الصفحة 4319 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا خیرخواہ اور کارساز بنا لیا ہے۔ اِ ن کو ان کے برے عقیدے کے انجام سے ڈرانے کے لیے آپ کی طرف قرآن وحی کیا گیا ہے کہ آپ انہیں ان کے برے انجام سے متنبہ فرمائیں جس کا آغاز مکہ اور گردونواح سے ہونا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن مجید نازل کیا جو عربی زبان میں ہے۔ عربی زبان میں نازل کرنے کی بنیادی طور پر تین وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اگر قرآن مجید غیر عربی میں ہوتا تو نہ صرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخاطبین کو سمجھنے میں مشکل پیش آتی ملکہ آپ کو بھی قرآن سمجھنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا۔ عربی زبان میں قرآن نازل فرماکر اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس دقت سے بچالیا۔ دوسری وجہ عربی میں قرآن نازل کرنے کی یہ ہے کہ اس زمانے میں صرف عربی زبان ہی ایسی زبان تھی جس کی جامعیت کا اہل علم اعتراف کرتے تھے اور آج بھی یہ زبان پوری دنیا کی زبانوں میں الفاظ اور قواعد کے اعتبار سے زیادہ جامع ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ آخر کسی نہ کسی زبان میں قرآن مجید نازل ہونا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان تمام اوصاف سے متصف فرمایا تھا جو آخر الزماں پیغمبر میں ہونا چاہیے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عربی تھے اس لیے قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امّ القریٰ اور اس کے گرد و پیش میں ر ہنے والے لوگوں کو آخرت کے ثواب اور احتساب سے آگاہ فرمائیں جس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ اس دن ذات پات اور ہر قسم کی اونچ نیچ کے سوا صرف لوگ دو حصوں میں تقسیم ہوں گے۔ صحیح عقیدہ اور صالح اعمال رکھنے والے لوگ جنت میں جائیں گے اور بدبخت لوگوں کو جہنّم میں جھونکا جائے گا۔ قرآن مجید نے سورۃ الاعراف میں ایک تیسرے گروہ کا ذکر بھی کیا ہے جہنیں قیامت کے دن اصحاب الاعراف کے نام سے پکارا جائے گا۔ یہ بالآخر جنت میں جائیں گے۔ لیکن کچھ بنیادی کوتاہیوں کی وجہ سے انہیں ایک عرصہ کے لیے جنّت اور جہنّم کے درمیان روک لیا جائے گا۔ ان کا ذکر یہاں اس لیے نہیں کیا گیا۔ کیونکہ بالآخر وہ جنت کے مہمان ہوں گے۔ اس لیے انہیں جنتیوں میں ہی شمار کیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے مکہ معظّمہ کو امّ القریٰ قرار دیا ہے۔ جس کا معنٰی ہے بستیوں کی ماں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب زمین و آسمان بنانے کا فیصلہ کیا تو سب سے پہلے بیت اللہ کے مقام پر زمین کا آغاز ہوا۔ (آل عمران: 96) دوسری وجہ یہ ہے کہ مکہ معظّمہ بیت اللہ کی وجہ سے ابتداء ہی سے مرجع خلائق رہا ہے۔ امّ القریٰ کے آس پاس سے مراد مکہ کے گرد و نواح کی بستیاں ہیں۔ اس آیت میں تبلیغ کا نیٹ ورک بتلایا گیا ہے کہ کام کا آغاز اپنے قریب سے کرنا چاہیے۔ جس کے لیے حکم ہے کہ اپنے آپ اور اپنے عزیز و اقربا کو جہنم کی ہولناکیوں سے بچاؤ۔ ( الشعراء: 214) اکثر اہل علم نے امّ القریٰ سے پوری دنیا مراد لی ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کا ارشاد اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ میں کالے اور گورے، عربی اور عجمی کے لیے رسول بنایا گیا ہوں اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک اسلام کا پیغام دنیا کے ہر گھر تک نہ پہنچ جائے۔ [ رواہ احمد: مسند ابی ذر]

(قُلْ یٰٓا أَ یُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَا) [ الاعراف: 158]

" اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دیجئے! اے لوگو میں تم تمام کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔"

مسائل

1۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن مجید نازل کیا ہے۔ 2۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔

3۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل مکہ اور پوری دنیا کو قیامت کے حساب و کتاب سے متنبّہ کرنے کے لیے مبعوث کیے گئے۔

4۔ قیامت کے دن حساب و کتاب کے بعد لوگ دو اقسام میں تقسیم کیے جائیں گے۔

5۔ ایک فریق جنتی ہوگا اور دوسرا فریق دوزخ میں جھونکا جائے گا۔

تفسیر بالقرآن

جنت اور جہنم کا ایک منظر:

1۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر: 47۔ 48)

2۔ جنت کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد: 35)

5۔ جہنم سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ (البقرۃ: 167) 6۔ جہنم سے چھٹکارا پانا مشکل ہے۔ (الزخرف: 77)

7۔ جہنم میں موت و حیات نہیں ہوگی۔ (طٰہٰ: 74) 8۔ دنیا میں لوٹ آنے کی خواہش پوری نہیں ہوگی۔ (الانعام: 27)

9۔ جہنم کی سزا میں وقفہ نہیں ہوگا۔ (فاطر: 36) 10۔ جہنم کا عذاب چمٹ جانے والا ہے۔ (الفرقان: 65)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت