فهرس الكتاب

الصفحة 1480 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: اس آیت سے چار آیات قبل حکم تھا کہ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو فرمائیں اگر تمہیں میرے عقیدہ اور دین کے بارے میں شک ہے تو میرے راستے میں رکاوٹ بننے کی بجائے مجھے اپنے طریقہ پر اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرنے دیجیے۔

اب ارشاد ہوتا ہے یہی حق ہے جو تمہارے رب کی طرف سے تم تک پہنچ چکا ہے۔ جو حق کی پیروی کرے گا اس کا فائدہ اسے ہی پہنچے گا اور جس نے توحید کا عقیدہ چھوڑ دیا۔ اس کا وبال اسے ہی اٹھانا پڑے گا۔ اور مجھے تم پر وکیل بنا کر نہیں بھیجا گیا وکیل کا معنی ہے دوسرے کے کام کا ذمہ دارہونا۔ نبی کا کام حق پہنچانا ہوتا ہے منوانا نہیں۔ لہٰذا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اسی کی اتباع کریں جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے اور لوگوں کی مخالفت پر حوصلہ رکھیں اور پوری دلجمعی اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنا کام کرتے جائیں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچے اللہ تعالیٰ بہترین حاکم ہے۔ اللہ کے حکم سے مراد ظالموں پر عذاب اور حق والوں کی کامیابی ہے۔

(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ(رض) قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ إِنَّ اللَّہَ قَالَ إِذَا ابْتَلَیْتُ عَبْدِی بِحَبِیبَتَیْہِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُہُ مِنْہُمَا الْجَنَّۃَ) [ رواہ البخاری: باب فضل من ذھب بصرہ] " حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا جس کو اللہ تعالیٰ اس کی دو محبوب (آنکھوں) چیزوں کے ساتھ آزماتا ہے اور وہ اس پر صبر کرتا ہے۔ اللہ اس کے عوض اسے جنت عطا فرمائیں گے۔"

مسائل

1۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق پہنچ چکا ہے۔ 2۔ حق کا راستہ اپنانے والے کو اس کا فائدہ ہوگا۔

3۔ گمراہی اختیار کرنے والے کو اس کا نقصان ہوگا۔ 4۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں تھے۔

5۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وحی کی تابعداری کا حکم دیا گیا۔

6۔ دین کے راستے میں مشکلات آئیں تو صبر سے کام لینا چاہیے۔

7۔ اللہ تعالیٰ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔

تفسیر بالقرآن

سب لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں:

1۔ صبر کا دامن نہ چھوڑیں یہاں تک کہ اللہ فیصلہ صادر فرما دے۔ (یونس: 109)

2۔ نہیں ہے حکم مگر اللہ کا۔ اس کا حکم ہے کہ عبادت صرف اسی کی کی جائے۔ (یوسف: 40)

3۔ بے شک اللہ جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے۔ (المائدۃ: 1)

4۔ اللہ قیامت کے دن لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ (البقرۃ: 113)

5۔ قیامت کے دن آپ کا پروردگار ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ (النحل: 124، النساء: 141)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت