فهرس الكتاب

الصفحة 2920 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: کفار کی مخالفت اور استہزاء کے باوجود رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جدوجہد کے بڑھتے ہوئے اثرات۔

دور نبوت کے ابتدائی سالوں میں کفار کو یہ خوش فہمی تھی کہ ہم توحید و رسالت کی دعوت کو روکنے میں کامیاب ہوجائیں گے جس کے لیے انھوں نے سر دھڑ کی بازی لگا رکھی تھی جس کے لیے انھوں نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ یہاں کفار کی انہی کوششوں کا ذکر ہے جس سے حق وباطل کے درمیان ہونے والی کشمکش کا پتہ چلتا ہے۔ قرآن مجید نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آگاہ فرمایا کہ کافر اور مشرک چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں لیکن اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ نور ہدایت دنیا پر پھیل کر رہے گا۔ (الصف: 8۔ 9)

اس کے ساتھ ہی قرآن مجید نے دو ٹوک انداز میں واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے کہ وہ اور اس کا رسول ہر صورت غالب آئیں گے کیونکہ اللہ بڑا طاقت ور اور غالب آنے والا ہے۔ (المجادلہ: 21)

اس لیے کفار کو یہ انتباہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی مذموم کوششوں سے باز آجائیں کیونکہ وہ کسی صورت بھی اللہ کے دین کے پھیلاؤ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ اگر پھر بھی باز آنے کے لیے تیار نہیں تو انھیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ کون سیدھے راستے سے گمراہ ہوچکا اور کس کا انجام بدترین ہوگا ؟ بالخصوص جب جہنم کے عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ تو سوائے حسرت کے ان کے پلے کچھ نہیں ہوگا۔ مذکورہ آیت کے الفاظ سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بے مثال جدوجہد اور کفار کی طرف سے شدید ردّ عمل کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی جدوجہد جاری رکھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب فرمایا اور کافر ناکام ہوئے یہ آخرت میں اذّیت ناک عذاب میں مبتلا ہونگے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت