فهرس الكتاب

الصفحة 3741 من 6343

فہم القرآن

سورۃ فاطر کے آخری رکوع میں اہل مکہ کے ایک قول کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے قسمیں اٹھا اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ جو نہی نبی آخرالزماں آئے گا تو ہم دوسروں سے بڑھ کر ہدایت پانے والے ہوں گے لیکن جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی نبوت کا اعلان کیا تو یہ لوگ تکبر کی بنا پرکفر و شرک میں اور ہی آگے بڑھ گئے اور پروپگنڈا کرنے لگے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صراط مستقیم سے بھٹک چکا ہے۔ سورۃ یٰس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کے سردار ہیں، انبیاء (علیہ السلام) کی جماعت میں شامل ہیں اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔

اہل علم نے لفظ " یٰسین" کے دو معانی ذکر کیے ہیں۔ عربی کی ایک لغت کے مطابق یٰس کا معنٰی اے انسان ! اور دوسری لغت کے مطابق اس کا معنٰی ہے اے سردار۔ دونوں حوالوں اور اس سورت کے سیاق و سباق کے اعتبار سے یہ حقیقت بالکل آشکارا ہے کہ یٰس سے مراد سرورِدوعالم کی ذات اقدس ہے کیونکہ جنس کے اعتبار سے آپ انسان تھے اور مقام کے لحاظ سے تمام انسانوں بلکہ تمام انبیاء کے سردار ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سردار کے لقب سے پکارنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ آپ کے مخالفوں کو معلوم ہو کہ جس شخصیت کی شان گھٹانے کے درپے ہو وہ تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قدر صاحب شان اور علوّمرتبت کی حامل ہے کہ خالق کائنات اسے انسانوں کا سردار کہہ کر پکارتا ہے اس میں ایک طرف سرور دوعالم کے لیے تسلی کا پہلو پایا جاتا ہے اور دوسری طرف مخالفین کو یہ باور کرانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو کس شان سے نوازا ہے۔ آپ کی شان صرف سردار کے لقب کے ساتھ ہی خاص نہیں کیا گیا بلکہ خالقِ کائنات نے قرآن کریم کی قسم اٹھا کر آپ کو اطمینان بخشا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کا تعلق اور شمار " اللہ" کے رسولوں میں ہے۔ کفار آپ کے بارے میں جو چاہیں ہرزہ سرائی کریں لیکن آپ ہر حال میں سردار اور صراط مستقیم پر ہیں۔

قرآن مجید کی قسم اٹھانا:

حضرت امام بخاری (رح) نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں ایک باب باندھا ہے (باب الْحَلِفِ بِعِزَّۃِ اللَّہِ وَصِفَاتِہِ وَکَلِمَاتِہٖ) جس میں انہوں نے دواحادیث ذکر کی ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی قسم اٹھائی جاسکتی ہے کیونکہ قرآن مجید " اللہ" کا کلام اور اس کی صفت ہے اس لیے قرآن مجید کی قسم اٹھانا جائز ہے۔

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان اور مقام:

" بے شک میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا پھر اس کو مزین کیا لیکن صرف ایک اینٹ کی جگہ باقی تھی۔ لوگ اس گھر کو دیکھتے اور اس ایک اینٹ کی جگہ خالی پا کر تعجب کا اظہار کرتے اور کہتے: یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی؟ آپ نے فرمایا: میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔" [ رواہ البخاری: باب خاتم النبیین]

(أَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ وَبِیَدِیْ لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ وَمَا مِنْ نَبِیٍّ یَوْمَءِذٍ آدَمُ فَمَنْ سِوَاہُ إِلَّا تَحْتَ لِوَاءِیْ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ) [ رواہ الترمذی: کتاب المناقب ]

" میں قیامت کے دن آدم کی ساری اولاد کا سردار ہوں گا مگر اس اعزاز پر فخر نہیں کرتا اور میرے ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا اس پر میں اتراتا نہیں۔ قیامت کے دن آدم (علیہ السلام) سمیت تمام نبی میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے، میں قیامت کے دن سب سے پہلے اپنی قبر سے اٹھوں گا مگر اس پر کوئی فخر نہیں کرتا۔"

مسائل

1۔ سرورِدوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوری کائنات کے سردار اور امام ہیں۔ 2۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صراط مستقیم کے داعی ہیں۔

3۔ قرآن مجید بڑی ہی پُر حکمت کتاب ہے۔

تفسیر بالقرآن

سرورِدوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقام اور آپ کی شان:

1۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پوری دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا۔ (الاعراف: 158)

2۔ آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا گیا۔ (الانبیاء: 107) 3۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب: 40)

4۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں کے لیے ر ؤف، رحیم بنایا گیا ہے۔ (التوبۃ: 128)

5۔ آپ کو پوری دنیا کے لیے داعی الی اللہ، بشیر اور نذیر بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔ (الاحزاب: 45۔ 46)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت