فهرس الكتاب

الصفحة 2499 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: تقویٰ اختیار کرنے والوں کے مقابلے میں دنیا دار لوگوں کی روش اور ان کا انجام۔

کفار کی عادت تھی اور ہے کہ وہ بار بار ایک ہی بات دھراتے جاتے ہیں۔ اسی بری عادت اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پریشان کرنے کی خاطر کفار وقفے، وقفے کے بعد مطالبہ کرتے کہ اگر آپ واقعی سچے نبی ہیں تو کوئی ایسی دلیل اور معجزہ پیش کریں جس سے ہم مجبور ہوجائیں کہ آپ واقعی ہی نبی ہیں۔ قرآن مجید میں اس کے کئی جواب دیے گئے ہیں۔ لیکن اس موقعہ پر صرف اتنا کہنا ہی کافی سمجھا گیا کہ کیا آپ کی نبوت کے ثبوت تورات، انجیل، زبور میں نہیں پائے جاتے۔

مثال کے طور پر توراۃ اور انجیل کے حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں جہاں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کے متعلق صاف اشارات موجود ہیں: استثناء، باب 18، آیت 15 تا 19۔ متی، باب 21، آیت 33 تا 46۔ یوحنا، باب، آیت 19 تا 21۔ یوحنا، باب 14، آیت 15 تا 17 و آیت 25 تا 30، یوحنا، باب 15، آیت 25 تا 26۔ یوحنا، باب 16، آیت 7 تا 15۔

مسائل

1۔ کفار آپ سے نت نئے معجزات طلب کرتے۔ 2۔ آپ کا تذکرہ پہلی کتابوں میں موجود ہے۔

تفسیر بالقرآن

نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے ثبوت:

1۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوری دنیا کے رسول ہیں۔ (الاعراف: 158) 2۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب کے رسول ہیں۔ (سباء: 28)

3۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبشر اور نذیر ہیں۔ (الاحزاب: 45)

4۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رحمت عالم ہیں۔ (الانبیاء: 107)

5۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب: 40)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت