فهرس الكتاب

الصفحة 1341 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: دیہاتی منافقین کے بعد دیہاتی مومنوں کے ایمان اور کردار کا تذکرہ۔

یہ بات کئی مرتبہ عرض کی جا چکی ہے کہ قرآن مجید کی عدل پسندی اور طرز بیان ہے کہ جہنم کے ساتھ جنت، برے انجام کے ساتھ اچھے انجام، کفار اور منافقین کے بیان کے معاً بعد مخلص مسلمانوں اور مومنوں کا تذکرہ کرتا ہے۔ تاکہ قارئقرآن کو دونوں کردار اور انجام کا تجزیہ کرنے میں آسانی رہے چنانچہ اس بات کی وضاحت کردی گئی کہ دیہات میں رہنے والے سب کے سب کافر اور منافق نہیں بلکہ ان میں ایسے خوش بخت بھی ہیں جو اپنے رب پر کامل ایمان اور قیامت کے دن اس کی بارگاہ میں پیش ہونے کا پکا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اور جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کے پیچھے ان کی صرف اور صرف یہی تمنا ہوتی ہے کہ انہیں اپنے رب کا قرب حاصل ہو۔ اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خوش ہو کر ان کے لیے دعائے خیر کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قربت اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعائیں ان کے لیے دنیا اور آخرت کا خزانہ ہیں۔ ان کے اخلاص اور نیک اعمال کی وجہ سے انہیں خوشخبری سنائی جارہی ہے کہ خوش ہوجاؤ کہ اللہ کی قربت و رحمت تمہارے لیے ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا اور آخرت میں اپنی نعمتوں اور رحمتوں سے نوازے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی کمزوریوں کو معاف کرتے ہوئے ان پر رحم و کرم فرمانے والا ہے۔ قرآن مجید کی تعلیم کے پیش نظر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صدقہ کرنے والے صحابہ (رض) کے بارے میں یہ الفاظ استعمال فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں صدقہ پیش کیا جس پر آپ نے مجھے اس دعا سے نوازا۔

(عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ اَبِیْ اَوْفٰی(رض) قَالَ کَان النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِذَا اَتَاہُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِھِمْ قَال اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی اٰلِ فُلَانٍ فَاَتَاہُ اَبِیْ بِصَدَقَتِہٖ فَقَالَ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی اٰلِ اَبِیْ اَوْفٰی (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ) وَفِیْ رِوَاے َۃٍ اِذَا اَتَی الرَّجُلُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بِصَدَقَتِہٖ قَالَ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَےْہِ) [ رواہ البخاری: کتاب الزکاۃ ]

" حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب لوگ زکوٰۃ لے کر آتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے لیے دعا فرماتے۔ اے اللہ فلاں کے اہل و عیال پر رحمت فرما۔ میرے والد آپ کی خدمت میں زکوٰۃ لے کر آئے تو آپ نے دعا فرمائی اے اللہ ابو اوفی ٰکے اہل وعیال پر رحمت نازل فرما۔ دوسری روایت میں ہے جب کوئی آدمی زکوٰۃ پیش کرتا تو آپ دعا کرتے کہ اے اللہ اس پر رحمت فرما۔"

مسائل

1۔ دیہاتیوں میں سے اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے بھی ہوتے ہیں۔

2۔ ہر نیک عمل اللہ تعالیٰ کی قربت کے حصول کے لیے ہونا چاہیے۔

3۔ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والے اللہ کی رحمت کے حقدار ہوتے ہیں۔

4۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی رحمت فرمانے والا ہے۔

تفسیر بالقرآن

اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہونے والے لوگ:

1۔ اللہ، انبیاء کو اپنی رحمت کے ساتھ مخصوص کرتا ہے۔ (الانبیاء: 86)

2۔ اللہ نیک لوگوں کو اپنی رحمت سے ہمکنار کرتا ہے۔ (الانبیاء: 75)

3۔ ایمان میں پختہ رہنے والے کو اللہ اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ (النساء: 175)

4۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ (الشورٰی: 8)

5۔ اللہ کی رحمت ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ( الاعراف: 156)

6۔ اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہوتی ہے۔ (الاعراف: 56)

7۔ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ (التوبۃ: 99)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت